حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 180
165 پہن کر کیوں گیا؟ فرمانے لگے۔تم جو ٹوپی پہن کر جاتے ہو خواہ مخواہ کارٹون بن جاتے ہو۔۔۔۔پروفیسر صاحب چونکہ احمدی نہ تھے انہیں اس بارہ میں ہمارے کالج کی روایات کا علم نہ تھا۔۔حضور کو جب اس بارہ میں علم ہوا تو حضور نے فرمایا کہ ہم نے عام رو کے ساتھ نہیں بہنا بلکہ اسلامی آداب اور شعار پر قائم رہ کر اپنے کالج کو متعارف کروانا ہے محض انعام وغیرہ حاصل کرنا کوئی مقصد نہیں۔میرے انعام جیتنے اور اپنے کالج کی اسلامی روایات پر کاربند رہنے پر حضور نے بڑی حوصلہ افزائی فرمائی۔۴۵۰ " آپ کے دور میں کالج اور اس کے طلباء کی شہرت آپ نے اپنے دور میں تعلیم الاسلام کالج میں جس قسم کے طالب علم پیدا کئے اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہوتا ہے جو چوہدری محمد علی صاحب نے یوں بیان فرمایا ہے۔" ۱۹۵۳ء کے فسادات کے بعد کی بات ہے۔ابھی مارشل لاء ذرا نرم شکل میں نافذ تھا۔وائی۔ایم۔سی۔اے میں بوٹنگ ایسوسی ایشن کی انتظامیہ کا اجلاس ہوا۔مکرم پروفیسر اشفاق علی خان صدر تھے۔آرمی کی طرف سے خود جنرل محمد اعظم صاحب شامل ہوئے۔عاجز بھی رکن تھا۔زیر بحث معاملہ یہ تھا کہ ریلوے کی خواتین کی کشتی رانی کی ایک کلب کی طرف سے جو ایسوسی ایشن سے ملحق تھی یہ شکایت کی گئی تھی کہ کالجوں کے طلباء انہیں تنگ کرتے ہیں۔سب سے زیادہ تعداد میں ہمارے ہی کالج کے طلباء وہاں جاتے تھے کیونکہ ہمارے پاس کھیل کا کوئی اور میدان نہیں تھا۔جب کوائف سامنے آئے تو پتہ چلا کہ طلباء بہت بیہودگیاں کرتے ہیں۔اس پر جنرل صاحب بہت خفا ہوئے اور کہا کہ اگر ایسی غنڈہ گردی جاری رہی تو آرمی اپنا الحاق واپس لے لے گی۔اس پر ایک بہت سخت قسم کا ریزولیوشن پاس ہوا اور تمام کالجوں کے پرنسپلوں