حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 179
164 بیٹھ کر کھانا کھاتے اور پیار سے خوش دلی سے میزبانی کے فرائض ادا کرتے۔۴۴۲ کالج کے طلباء کی غیر نصابی سرگرمیوں میں جماعتی وقار کا ملحوظ رکھنا آپ کے شاگرد محترم را نا محمد خان صاحب امیر ضلع بہاول نگر تحریر کرتے ہیں:۔قادیان سے ہجرت کے بعد کالج جب لاہور منتقل ہوا تو حضور کی بڑی خواہش تھی کہ اپنے کالج کو لاہور میں جلد از جلد متعارف کروانے کے لئے کالجوں اور یونیورسٹی میں ہونے والی کھیلوں، مباحثوں اور دیگر غیر نصابی سرگرمیوں میں بھر پور حصہ لیا جاوے لیکن ساتھ ہی یہ ہدایت تھی کہ ان سرگرمیوں میں حصہ لیتے وقت ایسی کوئی حرکت سرزد نہ ہو جس سے جماعتی وقار مجروح ہو یا اسلامی آداب اور تعلیم کی خلاف ورزی ہو۔ایک دفعہ دیال سنگھ کالج میں منعقد ہونے والے بین الکلیاتی مباحثہ میں حصہ لینے کے لئے خاکسار کو بھجوایا گیا۔خاکسار اپنے کالج کے دستور " کے مطابق شیروانی اور ٹوپی پہن کر گیا۔مباحثہ کا عنوان تھا کہ عورتیں مردوں سے بہتر حکمران ثابت ہو سکتی ہیں" خاکسار نے اس قرارداد کے خلاف تقریر کرنی تھی۔تقریریں ہوئیں۔جیسا کہ ان دنوں کالجوں کے مباحثوں میں ہوتا تھا۔مقرروں کو بڑا ہوٹ کیا گیا۔خاکسار بفضلہ تعالیٰ مباحثہ میں دوم قرار دیا گیا۔انعامات محترمہ۔پرنسپل صاحبہ کنیئرڈ کالج نے تقسیم کرنے تھے۔انعام لیتے وقت خاکسار نے موصوفہ سے ہاتھ ملانے کی بجائے ہاتھ بلند کر کے سلام کیا۔اگلے روز جب کالج پہنچے تو ہماری یونین کے انچارج پروفیسر جو دیال سنگھ کالج سے آئے تھے اور انگریزی کے لیکچرار تھے نے بڑی خفگی کا اظہار کیا کہ ڈاکٹر صاحبہ سے میں نے ہاتھ کیوں نہیں ملایا ؟ اور دوسرے میں ٹوپی