حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 177
162 کالج ڈی اے وی کالج کی عمارت میں منتقل ہو چکا تھا۔سڑک کے پار بائیں ہاتھ اسلامیہ ہائی سکول نمبر ۲ کی عمارت تھی جس میں اہل پیغام نے اپنا سکول جاری کیا تھا۔صاحبزادہ مرزا انس احمد صاحب ان دنوں اس سکول میں پڑھا کرتے تھے۔ایک مرتبہ سکول نے کسی تقریب پر حضور کو بھی دعوت دی۔غالبا یوم والدین یا اس قسم کا کوئی سالانہ اجلاس تھا۔حضور کالج سے نکل کر وہاں تشریف لے گئے۔عاجز حضور کے ہمراہ تھا۔صدر دروازے میں داخل ہوتے ہی دائیں ہاتھ پر ایک پنڈال تھا۔حضور سکول میں داخل ہوئے تو تمام حاضرین جن کی تعداد کئی سو تھی احتراماً کھڑے ہو گئے اور حضور سے بڑھ کر طے اور مصافحہ سے مشرف ہوئے سوائے ایک صاحب کے جو بدستور اپنی کرسی پر بیٹھے رہے۔میں نے عرض کی کہ یہ کون صاحب ہیں۔مسکرا کر فرمایا آپ نہیں جانتے یہ جناب عبد الرحمان مصری ہیں۔طالب علموں کا اکرام Slee آپ بانی اسلام حضرت محمد رسول اللہ صل وسلم کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اور طالب علموں میں عزت نفس پیدا کرنے کے لئے ان کا اکرام فرماتے تھے۔چوہدری محمد علی صاحب بیان کرتے ہیں۔دو۔طلباء سے تعلق بے حد محبت اور تکریم کا ہوا کرتا۔داخلے کے وقت جب انٹرویو فرماتے تو کھڑے ہو کر ہر طالب علم سے ملتے اور کھڑے ہو کر مصافحہ کے بعد اسے رخصت فرماتے۔اس طرح حضور کو بار بار اٹھنا بیٹھنا پڑتا۔ایک مرتبہ عاجز نے عرض کیا کہ اگر اس طرح نہ ہو تو کیا حرج ہے۔فرمایا آخرِ مُوا أَوْلادَكُمْ۔طالب علم سے داخلے کے وقت ایک بار ملنے کے بعد اس کا نام اور کوائف ذہن میں محفوظ ہو جاتے۔اللہ تعالیٰ نے حافظہ ہی اس قسم کا عطاء فرمایا تھا۔داخلوں کے