حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 167
152 " پاکستان کے قیام کے بعد ربوہ منتقل ہونے تک قیام رتن باغ لاہور رہا۔اور اس عرصہ میں تعلیم الاسلام کالج کے پرنسپل کے عہدہ پر فائز سب رہے۔یہ دور بھی بڑی محنت کا دور تھا۔لٹے ہوئے بے سروسامان۔آئے اور اس خاک سے ایک کامیاب تعلیمی ادارہ کو اٹھایا جس نے تعلیمی درس گاہوں میں ایک امتیازی حیثیت حاصل کی۔۳۲ رسالہ المنار کا اجراء حضرت صاحبزادہ صاحب کی سرپرستی میں اپریل ۱۹۵۰ء سے کالج کا علمی مجلہ "المنار" کے نام سے شروع کیا گیا۔اس کے اجراء کے موقع پر آپ کا پیغام یہ تھا۔" زندگی مسلسل جستجو کا نام ہے۔کلاس روم میں آپ پہلوں کی جستجو کے نتائج سنتے ہیں۔انہیں سمجھنے اور یاد رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ان نتائج پر تنقیدی نگاہ ڈالنے کا آپ کو موقعہ میسر نہیں آتا۔کلاس روم تخلیق کا میدان بھی نہیں مگر تنقید و تحقیق کے بغیر آپ کی زندگی بے معنی ہے۔"پدرم سلطان بود" آپ کو زیب نہیں دیتا۔دنیا کو جس حالت پر آپ نے پایا اس سے بہتر حالت پر آپ نے اسے چھوڑنا ہے۔کالج میگزین تنقید و تحقیق کا ایک وسیع میدان آپ کے سامنے کھولتا ہے۔اب آپ کا فرض ہے کہ اس سے فائدہ اٹھائیں۔دیدہ بینا سے دنیا کو دیکھیں۔عقل سلیم سے اسے پر کھیں۔ذہن رسا سے اس کی غیر معروف وادیوں میں داخل ہوں۔اس کی چھپی ہوئی کانوں میں جائیں اور آنے والی نسلوں کے لئے در بے بہا تلاش کریں۔اسلام کو آج روشن دماغ بہادروں کی ضرورت ہے۔اگر آپ بہادر تو ہیں مگر آپ کے ذہنوں میں جلا نہیں تو آپ اسلام کے کسی کام کے نہیں۔آزادانہ تنقید و تحقیق آپ کو بہادر بھی بنائے گی اور آپ کے اذہان کو منور بھی کرے گی اور یہی کالج میگزین کے اجراء کا موقعہ ہے خدا ہمیں اس میں کامیاب