حصارِ

by Other Authors

Page 62 of 72

حصارِ — Page 62

۶۲ اتر سے توخد اتعالیٰ نے نہ صرف خلافت کی حفاظت کی بلکہ جماعت کو بے بہا برکتوں سے معمور یورپین مراکز کے تحفے عطا فرمائے۔اس پس منظر میں حضرت خلیفتہ اسی اتابع بعد اللہ تعالے منصرہ العزیز نے خلافت کی عظمت اور اس کی راہ میں آئندہ پیش آنے والی بڑی بڑی مخالفتوں ، ان کے انجام اور ان کے نتیجہ میں جاتے احمدیہ پر خدا تعالیٰ کے افضال و انعامات کے نزول کی خبر دیتے ہوئے مجلس خدام الاحمدیہ کے پہلے یورپین اجتماع کو خطاب کرتے ہوئے ناقابل تسخیر عزم اور پر شوکت آواز میں فرمایا۔کہ " اس دفعہ بھی احترار ہی کا دور ہے۔۔۔۔۔۔۔بظاہر وہ احمدیت کی موت کے ترانے الاپ رہے ہیں لیکن میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ اپنی موت کے گانے گا رہے ہیں۔اس کے سوا اور کوئی آوازہ نہیں ہے جو ان کے مونہوں سے نکل رہی ہے۔احمدیت کی صف پیٹنے والا کسی ماں نے کوئی بچہ نہیں جنا نہ پہلے متھانہ آج ہے نہ آئندہ بھی ہوگا۔یہ وہم وگمان اگر کسی دماغ سے گزر رہا ہے تو ایک پاگل کی بڑ سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔چنانچہ تحریک جدید کے اس دور کی طرف میں واپس لے کے جاتا ہوں جب یہی مجلس احرار بڑے بڑے منعرے بلند کر رہی تھی کہ قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔منارہ اسی کو اور ان کی مسجدوں کو منہدم کردیں گے۔کوئی نام لیوا نہیں رہے گا مرزا غلام احمد قادیانی کا۔اس وقت حضرت مصلح موعود نے خطبہ میں یہ اعلان کیا کہ میں احرار کے پاؤں تلے سے زمین نکلتی ہوئی دیکھ رہا ہوں۔اور چند ہفتے کے اندر اندر ایسی کا یا بیٹی کہ سارے پنجاب سے احرار کی صف پیٹتی ہوئی دکھائی دینے لگی اور احمدیت اس کے مقابل پر بڑی شان وشوکت کے ساتھ ابھری۔اور دبی تحریک جدید