حصارِ

by Other Authors

Page 53 of 72

حصارِ — Page 53

۵۳ لازم خلیفہ مسیح کا فیصلہ ایک فریق کے حق میں اور ایک فریق کے خلاف ہو گا۔اس صورت میں منافقہ کی ہمدردیاں حق اور ناحق کی تمیز کے بغیر بلا استثناء متاثرہ فریق سے ہوتی ہیں اور وہ انسانی ہمدردی اور اخلاق حسنہ کے پردہ میں متاثرہ دوستوں سے ایسی لگاوٹ کی باتیں کرتے ہیں جو رفتہ رفتہ خلیفہ وقت کے خلاف منافرت انگیزی پر منتج ہو جاتی ہیں۔حضرت خلیفہ المسح الاول رضی اللہ عنہ نے جب منکرین خلافت کا بڑی سختی سے محاسبہ کیا تو فتنہ کی یہی شکل اس موقع پر بھی رونما ہوئی۔اور اندر اندر ایک دوسرے کے ساتھ اس رنگ میں ہمدردیاں کی جانے لگیں گو یادہ تخت مظلوم اور حضرت خلیفہ مسیح الاول رضی اللہ کی تی رستم کا گشتہ ہیں۔فتنوں کی تاریخ میں یہ شکل بھی بہت قدیمی ہے اور اسی طرح مردود ہے جس طرح دیگر اقسام - اپنی پسند کے آدمیوں کو مسلط کرنیکا الزام ایک الزام حضرت خلیفہ ربیع الاول پر یہ گیا کہ یہ ان پسندکے رویوں کو جو معترضین کی نظریں نابل تھے جماعت پر مسلط کر رہے ہیں۔یہ اسی نوعیت کا الزام ہے جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مبارک عہد میں ایک نہایت خطرناک وباء کی صورت میں بچھوٹا تھا دراصل ہر زندہ حقیقت کے ساتھ موت کی موس صورتیں ہمیشہ نبرد آزمارہی ہیں، اور رہیںگی اور ان وباؤں کے ساتھ مقابلہ میں جب بھی کوئی زندہ مثبت غالب آتی ہے تو اس نوعیت کے دوسرے فتنوں کے مقابلے کی پہلے سے بڑھ کر طاقت اس میں پیدا ہو جاتی ہے۔اور اس ازلی ابدی حقیقت کو کوئی تبدیل نہیں کر سکتا کہ ہر زندہ حقیقت کو موت یا اس سے مشابہ قوتوں کے ساتھ نبرد آزما رہنا پڑتا ہے اور اس میں اس کے ارتقاء اور تحسین عمل کا راز مضمر ہے۔قرآن کریم اسی مضمون کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے :۔تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيوة لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا