حصارِ

by Other Authors

Page 52 of 72

حصارِ — Page 52

۵۲ قیادت کرے۔حضرت خلیفہ المسح الاول رضی اللہ عنہ کے عہد میں اس فتنہ نے جو صورت اختیار کی ، چونکہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے ، اس لئے عین ممکن ہے کہ یہ کسی دوسری خلافت میں اس کے بالکل بر عکس شکل میں ظاہر ہو اور کسی خلیفہ کے بارہ میں یہ پراپیگنڈہ کیا جائے کہ دراصل خلیفہ تو انتظامی سربراہ ہوتا ہے اور اسی قابلیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے جماعت نے فلاں شخص کا انتخاب کیا تھا۔جہاں تک روحانیت اور تعلق باللہ کا سوال ہے، فلاں شخص کا کوئی مقابلہ نہیں۔میں انتظامی امور میں بے شک خلیفہ کی اطاعت کرونگر ارادت مندی اور عقیدت اور دلی محبت فلاں بزرگ سے رکھو۔گویا امین کے کام چلانے کے لئے تو خلیفہ ہو اور روحانی قیادت اور رہنمائی کے لئے ایک بت تراش لیا جائے۔لیکن جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے حقیقت خلافت سے متعلق حضرت خلیفہ البیع الاول رضی اللہ عنہ کے پر معرفت جلالی خطبات اور حضرت خلیلی این اثانی رضی اللہ عنہ ی زندگی بھر کی بھر پور جدوجہد کے نتیجہ میں اللہ تعالے کے فضل سے جماعت احمدیہ کی ایسی تھوس اور گہری تربیت ہو چکی ہے کہ جماعت کی بہت بھاری اکثریت ان فتنہ پردازوں کے پیچھے ہوئے بد ارادوں کو فوراً بھانپ لیتی ہے اور اُن کے دلوں میں پکنے والے بغض و عناد احمد و خود پرستی کے زہریلے مواد سے پناہ مانگتی ہے۔إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ - وَمَنْ يُضْلِلْهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ خلیفہ وقت کی غلطیوں کی نشاندہی اور ان کے چرچے مذکورہ بالافتہ کی ایک شکل یہ بھی بنتی ہے کہ خلیفہ کے فیصلہ جات پر پہلے دبی زبان سے تنقید کی جاتی ہے پھر حسب حالات کمل کہ اُن کی مذمت کی مہم چلائی جاتی ہے۔ایسے فتنے بعض اوقات عمومی شکل بھی اختیار کر جاتے ہیں اور تمام جماعت سے تعلق رکھنے والے مرکز می فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن اکثر اوقات یہ محدود دائرے سے تعلق رکھتے ہیں۔بعض قضائی یا انتظامی فیصلے ایسے ہوتے ہیں کہ