حصارِ

by Other Authors

Page 46 of 72

حصارِ — Page 46

السوم نہ ہو۔اس طریق پر اگر بات کی جائے تو یہ تقویٰ کے خلاف نہیں۔لیکن یہاں جس قبیل کے معترضین کا ذکر ہے وہ مومنین کی جماعت میں حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے خلاف یہ بدظنی پھیلانے کی کوشش کرتے تھے کہ نعوذ باللہ آپ عدا حضرت سیح موعود علیہ السّلام کے ارشادات کو پس پشت ڈالتے ہوئے جماعت کو غلط راستے پر ڈال رہے ہیں۔حالانکہ حضرت خلیفہ ایسے الاول رضی سے کوحضرت مسیح موعود علیہ السّلام سے جو فدائیت اور عشق اور اطاعت شعاری کی نسبت تھی اس کا عشر عشیر بھی ان معترضین کو نصیب نہ تھا۔اس ضمن میں میاں محمد عبد اللہ صاحب حجام کی ایک روایت بڑی بصیرت افروز ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ قادیان میں حضرت میاں شریف احمد صاحب کی کو بھی حجامت بنانے کی غرض سے گئے تو دوران انتظار صوبہ سرحد کے ایک معزز دوست غلام محمد خان صاحب بھی ملاقات کی غرض سے تشریف لے آئے لیکن کرسی کے اوپر بیٹھنے کی بجائے بڑے عاجزانہ رنگ میں زمین پر بیٹھے رہے۔جب حضرت میاں شریف احمد صاحب رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے تو تیزی سے بڑھ کر اُن کو اٹھایا کہ اوپر تشریف رکھیں لیکن وہ زمین پر بیٹھنے پر مصر ہے۔بالآخر حضرت میاں صاحبنے کے اصرار کے بعد گزارش کی کہ در اصل میرے دل پر ایک واقعہ کا بڑا گہرا اثر ہے۔اس لئے میں اپنے لئے خاکساری کو ہی پسند کرتا ہوں۔اور وہ واقعہ بی شنایا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں جب کبھی ہم قادیان آتے تو ہمیشہ ایک بوڑھے آدمی کو بڑی عاجزی اور انکساری کے ساتھ جوتیوں میں بیٹھے ہوئے دیکھتے۔جب حضور کا وصال ہوا تو ہم بھی جلد از جلد قادیان پہنچے تاکہ اپنے محبوب کا آخری دیدار کر سکیں۔قادیان پہنچتے ہی ہمیں خیر لی کہ بہشتی مقبرہ کے ملحقہ باغ میں جماعت کے نئے امام خلیفہ ایسے بیعت نے رہے ہیں۔چنانچہ ہم بھی دوڑتے ہوئے وہاں حاضر ہوئے لیکن ہمارے تعجب کی کوئی انتہا نہ رہی جب دیکھا کہ وہی جو تیوں میں بیٹھنے والا بوڑھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پہلے خلیفہ کی حیثیت سے بیعت لے رہا تھا۔میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ یہ بتاتے ہوئے اُن پر سخت رقت طاری ہو گئی اور روتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہم نے سوچا کہ اللہ کی شان ہے کہ مسیح موعود کی جوتیوں میں