حصارِ — Page 45
نتیجہ میں ہوسکتا ہے یا اندھی دشمنی کے نتیجہ میں تیسری کوئی صورت ذہن میں نہیں آتی۔ایک ما مومن اللہ کے خلیفہ پر یہ الزام عائد کرنا تو بدرجہ اولی غلط ہے کیونکہ وہ تو اپنے فیصلوں میں دوسری پابندیوں میں جکڑا ہوا ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کے خلفاء کا معاملہ تو اس اعتراض سے اور بھی دور تر ہو جاتا ہے کیونکہ یہ خلفاء تو ایک ایسے مامور من اللہ کے تابع فرمان ہیں جس کا پور پور سید المامورین حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ دستو کے ارشادات عالیہ کے بندھنوں میں عاشقانہ اور والہانہ جکڑا ہوا تھا۔پہلے امام یاخلیفہ کی مخالفت کا الزام دوسرا اعتراض به منکرین خلافت اور منافقین حضرت خلیفہ ربیع الاول رضی اللہ عنہ کی ذات بابرکات پر کرتے رہے وہ یہ تھا کہ نعوذ باللہ آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کے منشاء اور وصیت کو پس پشت ڈالتے ہوئے انجمن کی حکمرانی کی بجائے خلافت کو جماعت پر پھونس دیا ہے۔یہ اعتراض بھی کوئی نیا نہیں کیونکہ قدیم سے منافقین کی یہ عادت چلی آئی ہے کہ ایک امام کی زندگی میں تو اس پر اعتراض کرتے یا اس کے فیصلوں کو بادل نخواستہ قبول کرتے ہیں اور کسی پہلو سے بھی اطاعت کرنے والوں کی صف اول میں ان کا شمار نہیں کیا جاسکتا لیکن جب وہ امام گزر جاتا ہے اور اس کے تابع فرمان مخلصین کی صف اول میں سے ایک نیا امام اس کا جانشین مقرر ہوتا ہے تو اس امام پر الزام لگانے لگتے ہیں کہ وہ گزشتہ امام کے فیصلوں کا احترام نہیں کرتا۔تاریخ سے ثابت ہے کہ سید ولد آدم حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک خلفاء کو بھی بارہا اسی قسم کے طعنوں کے چر کے دیئے گئے اور اُن کے فیصلوں کو یہ کہ کر چیلنج کیاگیا کہ نعوذ بالہ یہ آخرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات یا تعامل کے خلاف ہے۔سادگی اور لاعلمی میں بھی یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے اور بعض اوقات نہایت اخلاص اور صاف نیت کے ساتھ اس خیال سے بھی ایسی بات کر دی جاتی ہے کہ ممکن ہے خلیفہ وقت کے ذہن میں متعلقہ ارشاد نبوی یا گزیشتہ خلیفہ کا فیصلہ ستحتضر