حصارِ — Page 42
خلافت کا ناقابل تسخیر صار، اسلام کی عظمت ، امت کے اتحاد اور یکمیٹی کو آئینہ دار ہے اور اس کی برکات عظیم الشان ہیں ، اس لئے خلافت حقہ کو زائل کرنے کے لئے طاغوتی طاقتیں ایڑی چوٹی کا زور لگاتی ہیں۔کبھی یہ مخالف تحریکات براہ راست دشمنوں کی طرف سے سراٹھاتی ہیں اور کبھی خلافت کی اتباع کا دعویٰ کرنے والے منافق طبع لوگ مومنوں کے دلوں میں وساوس پیدا کرنے کی کوششیں کرتے ہیں گر خلافت کا قیام چونکہ اللہ تعالے کی رضا او اسی ایک خاص تقدیر کے تحت عمل میں آتا ہے اس لئے خلافت کے مقابل پر ہر قسم کی تحریک ناکامی کا منہ دیکھتی ہے۔وہ ذات جسے تاج خلافت عطا ہوتا ہے وہ تقویٰ کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز، اللہ تعالیٰ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی میں بے نظیر اور اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی میں اولوالعزم ہوتا ہے اس لئے وہ خدا تعالے کا پسندیدہ وجود ہوتا ہے۔چنانچہ ہر حربہ، ابر مخالفانہ تحریک اور سر وسوسہ جو مقام خلافت کو زائل کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے تار عنکبوت ثابت ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد خلافت راشدہ کے قیام کی خبر دی اور اُس کی مدت بھی دافتح فرما دی اور بتادیا کہ اس کے بعد ملوکیت کا دور ہو گا۔بہر حال خلافت کے قیام کے ساتھ ہی س کو نا اہل کرنے کی بھی کوششیں شروع ہو گئیں۔کبھی گھٹیا قسم کے اعتراضات سے خلیفہ وقت کو تنہ کرنے کی کوشش کی گئی ور کبھی انتخابخیلفہ پر نکتہ چینیاں کی گئیں۔کبھی اس پر آمریت کا الزام گایاگیا تو کبھی یہ کہا گیا کہ خلیفہ وقت اپنے قرابت داروں کو عہدے دیتا ہے۔وغیرہ وغیرہ بہر حال جب تک تقدیر الہی میں خلافت کا قیام مقدر تھا۔خلافت اپنی مضبوط بنیادوں پر قائم رہی اور اپنی جملہ پر کتوں سے اُمت مسلمہ کو مستفیض کرتی رہی۔بعض خلفائے وقت کو مخالفوں نے گو شہید بھی کی مگر یہ شہادتیں جہاں اپنے خون جگر سے امت مسلمہ کی آبیاری کر گئیں وہاں انہوں نے منصب خلافت کے منجانب اللہ ہونے کا ثبوت مہیا کیا اور اس حقیقت کو بھی قائم کر دیا کہ خلیفہ راشد کو معزول نہیں کیا جا سکتا۔پس سر مخالفت ہر سازش اور ہر حربہ ناکام ہو گیا۔