حصارِ — Page 12
۱۲ امن کی ضمانت خلافت حقہ اسلامیہ کی ایک برکت یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ سے جماعت مومنین میں پیدا ہونے والے خوف کو دور کر دیا جاتا ہے۔انسانی زندگی خواہ انفرادی ہو یا اجتماعی ، اس میں نشیب و فراز ، دکھ سکھ اور خوف اور امن کا دور دورہ رہتا ہی ہے۔ایک قافلہ اگر راہ حیات میں قدم مارتا ہے تو اپنی منزل کے حصول میں کبھی پتھر بلی چٹانہیں اس کے قدموں کو اذیت سے ہمکنار کرتی ہیں تو کہیں سرسبز لہلہاتی کھیتیاں اس کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتی ہیں۔کبھی وہ تشنہ لبی کا شکار ہوتا ہے۔تو کبھی ابلتے ہوئے چشمے اس کی پیاس کا مداوا کرتے ہیں، اور جس طرح وہ قافلہ کبھی سکون و قرار سے راہ سفر طے کرتا ہے اسی طرح را ہنرنوں کا خوف بھی اسے بے چین کرتا رہتا ہے۔مذہبی زندگی بھی فطرت کی انہیں راہوں پر گامزن ہے۔کبھی پے در پے ترقیات جماعت مومنین کی ہمتیں بلند کرتی ہیں تو کبھی منافقوں کا نفاق اور دشمنوں کی ریشہ دوانیاں اُن کے دلوں میں خوف پیدا کر دیتی ہیں۔مگر خلافت ایسی نعمت ہے کہ اس کے ذریعہ سے ہر خوف کی حالت امن اور اطمینان میں تبدیل کر دی جاتی ہے۔خلفائے راشدہ کے زمانہ میں امت مسلمہ پر خوف کے عجیب و غریب حالات پیدا ہوئے اور مومنوں کاہر خون خلافت سے وابستگی کے سبب دور ہوتا گیا۔ان بیسیوں واقعات کے علاوہ تاریخ اسلام میں ایک حیرت انگیز واقعہ بھی رونا ہوا کہ جب حضرت عثمان کی شہادت کا کربناک واقعہ پیش آیا تو امت مسلمہ لرز گئی مگر خدا تعالیٰ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلافت عطا کی تو امت کی ڈھارس بندھی لیکن ابھی آپ مسند خلافت پر تمکن ہوئے ہی تھے اور منافقین کا فتنہ دیتا ہوا نظر آتا تھا کہ خوف کی ایک اور آندھی امیر معاویہ کی صورت میں ابھی۔