حصارِ

by Other Authors

Page 51 of 72

حصارِ — Page 51

حضرت خلیفہ البیع الاول رضی اللہ عنہ کی عظمت بھی آپ کی انکساری اور عجزمیں مضمر تھی۔مجزئی فضیلت کی کشیں انفاق کا چور دروازہ خلیفہ وقت سے بہتر ہونے کا گھمنڈ رکھنے والے یا اس پر کسی دوسرے کی فضیلت کا ڈھنڈورا بیٹھنے والے بعض اوقات پختہ ایمان والوں کے دلوں میں راہ پانے کے لئے "جزئی فضیلت کے چور دروازے سے داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ان کی چکنی چپڑی باتیں کچھ اس نہج پر چلتی ہیں کہ لفظ وقت فلاں معاملہ میں تو بہت قابل ہے لیکن فلاں معاملہ کی اسے کوئی واقفیت نہیں۔اس معاملہ میں فلاں شخص کا جواب نہیں وغیرہ وغیرہ۔یہ فتنہ مختلف شکلیں اختیار کر لیتا ہے۔کبھی تقریر وتحریر کی فضیلت کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے کبھی عبادت گزاری کی صورت میں، کبھی ظاہر ی سادگی اور درویشانہ زندگی کی قباء پہن کر اٹھتا ہے، کبھی علم قرآن کا چوغہ اوڑھ کر۔کبھی دنیاوی علوم کی بریری کا تذکرہ بن جاتا ہے۔کبھی سیاست اور تدبر اور معاملہ فہمی کا چرچا۔غرضیکہ میں رخنہ سے موقع ملے، یہ مومنوں کی مرصوص صف بندی میں داخل ہو کہ انتشار پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ایک قیادت کی طرف مرکوز جماعتی توجہ کو دویا تین یا زائد قیادتوں کی طرف پھیر کر وحدت ملی کے نقصان کا موجب بنتا ہے۔روحانی قیادت کے خلاف فتنے کی یہ مختلف شکلیں از منہ گزشتہ میں بھی پائی جاتی تھیں اور خلافت راشدہ کو بھی اس نے نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔حضرت خلیفة المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اس نے یہ شکل اختیار کی کہ آپ کی بزرگی او علم قرآن کو تو تسلیم کیا جانے لگا لیکن ساتھ ہی میشونہ بھی چھوڑ دیا جاتا کہ در اصل خلیفہ اسی لائق ہوتا ہے کہ نمازیں پڑھائے ، درس و تدریس کا کام کرے ، بیعتیں لے اور دعائیں کرے۔اس کا دیگر انتظامی امور وغیرہ سے کیا تعلق ہے یہ کام تو صاحب تجربہ ،جہاندیدہ اور علوم دنیوی سے آراستہ لوگوں کا ہے۔لہذا جماعت کو ایک سسر کی بجائے دوسروں والی قیادت کی ضرورت ہے۔ایک مر تو مرکزی ملا کے فرائض انجام دے اور ایک سر بصورت انجمن تمام دیگر امور میں جماعت کی