حصارِ

by Other Authors

Page 29 of 72

حصارِ — Page 29

١٠ تجدید دین خلافت راشدہ کی ایک بڑی برکت دین اسلام کی تجدید ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دينها - إن اللهَ يَبْعَثُ بِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَن يُجَدِّدُ لَهَا ( ابو داؤد بحوالہ مشکوة ص۳۰۶) کی یقین اللہ تعالی اس امت کے لیے ہر صدی کے سر پر دین کی تجدید کرنے والا بھیجتا رہے گا۔اس حدیث کی رو سے اُمت مسلمہ پر کوئی ایسی صمدی نہیں آسکتی جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی تعلیم دنیا سے روپوش ہو جائے۔آپ کی کامل اتباع اور جانشینی میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو رات کی راہنمائی کے ساتھ امت کو دین مصطفے صلی الہ علیہ وسلم پر چلانے والے ہوں گے اور بدعات و ہد رسومات کا قلع قمع کرنیوالے ہوں گے۔تاریخ اسلام میں ایسے وجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کثرت سے پیدا ہوئے۔اُمت مسلمہ کی چودہ صدیوں میں یہ سینکڑوں جانشین رسول جو اس حدیث کے مصداق ہیں۔خلافت ، ولایت اور امامت کے لباس میں ملبوس نظر آتے ہیں۔انہیں کہیں محمد دین کے مقام پر خلافت رسول کی خلعت عطا ہوئی اور کہیں اولیا ء اللہ ، ابدال اور اقطاب کے پاکیزہ مراتب سے نوازے گئے اور ان سب کا فرض اولین تجدید دین تھا۔چنانچہ حدیث نبوی مَا كَانَتِ النبوة قَط إِلَّا تَبِعَتْهَا خِلَافَة کئی رنگوں میں پوری ہوتی رہی۔تجدید دین کا فریضہ ادا کرنے والے ان پاک وجودوں میں خلیفہ وقت کا مقام سب سے بلند ہے۔لیکن مسیح موعود جو احادیث میں مہدی اور نبی کے نام سے بھی موسوم کیا گیا وہ مجد اعظم ہے اس حدیث مجدد کے انتہائی بلند اور اعلیٰ مقام پر فائز ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السّلام فرماتے ہیں