حصارِ — Page 19
۱۹ یکھیتی واستخفاد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد توحید کے قیام اور مسمانوں کی چھتی اور اتحاد کے لیے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کوخدا نے خلیفہ بنایا تو آپ نے فرمایا: قَدِ استَخْلَفَ اللهُ عَلَيْكُمْ خَلَيْفَةً يَجْمَعَ بِهِ أَنفَتَكُمْ وَيُقِيْمَ بِهِ كَلِمَتَكُمْ۔(دائرة المعارف) کہ اللہ تعالی نے تم پر اس بے خلیفہ مقرر کیا ہے تاکہ تمہاری آپس میں محبت و الفت اور شیرازہ بندی کو قائم رکھتے۔آیت کریمہ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقوا۔کہ خدا کی رسی تم سب مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقہ پیدا نہ کرو۔میں خدا تعالیٰ اسی طرف اشارہ فرماتا ہے کہ ایک وہ وقت تھا کہ ذ كنتم اعداد فَالَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ۔تم ایک دوسرے کے دشمن تجھے تو نبوت کے ذریعہ نہیں ایسی محبت دی کہ تم بھائی بھائی بن گئے۔مگر اب نبوت کے جانے کے بعد پھر منتشر نہ ہو جا تا تم خدا کی رسی مضبوطی سے پکڑو اور آپس میں اتحاد اور اتفاق کو اسی طرح قائم رکھو جس طرح نبی کے وقت میں تھا اور یہ اتحاد اور اتفاق اسی حالت میں قائم رہ سکتا ہے۔کہ تم خدا کی رسی جو خلافت کی صورت میں تمہیں عطا کی گئی تے مضبوطی سے تھامے رکھو۔نبوت کے بعد خلافت ہی ایسی نعمت ہے جس کی برکت سے تم آپس میں محبت والفت کا ناطہ برقرار رکھ سکتے ہو خواہ سرمایہ ہستی خرچ کر ڈالو۔کرہ ارض کی ہر چیز کے دام لگا ہو مگر تم ایک دوسرے کے لیے صحن دل میں الفنت کے پھول نہیں لگا سکتے۔آیت کریمہ تو انْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَا تَفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ ر تو خواہ روئے زمین کی سر چیر خرچ کر ڈالے پھر بھی ان کے دلوں میں محبت پیدا نہیں کر سکتا) اسی طرف اشارہ