حصارِ

by Other Authors

Page 10 of 72

حصارِ — Page 10

کے لیے شرط ہے۔مگر جہاں خلافت راشدہ قائم ہو وہ یقیناً مومنین اور صالحین کی جماعت ہے۔امت مسلمہ خلافت راشدہ سے محرومی کے بعد جب لمحہ بہ لحہ زوال واد بار کے زینے اتر نے لگی اور پھر ایک لیسے زمانہ کے بعد دردمند مسلمانوں نے خلافت کی کمی شدت سے محسوس کی اور اس کی فرقت کا احساس شرح کو تڑپانے لگا تب خلافت کے قیام اور احیاء نو کے لیے کئی تحریکات نے سراٹھایا۔اور یہ سب تحریکاست ناکامی کا داغ لیے اور ابق تاریخ میں اوتھل ہوگئیں کیونکہ یہ کو کھہ بانجھ تھی اور زمین بنجر۔اللہ تعالے کی تقدیر قیام خلافت کے لیے وہاں کام کرتی ہے جہاں ایمان اور اعمال صالحہ کی زرخیزی ہو اور جہاں یہ تقدیر کام کرتی ہے وہاں اُس جماعت کے ایمان اور اعمال صالحہ کی تصدیق بھی کرتی ہے۔اور اس کا دوسرا رخ یہ ہے کہ :۔" جوان (خلفاء) کا منکر ہو اس کی پہچان یہ ہے کہ اعمال صالحہ میں کمی ہوتی چلی جاتی ہے اور وہ دینی کاموں سے رہ جاتا ہے۔“ الفضل ۱۷ ستمبر ۶۱۹۱۳ حضرت خلیفة المسیح الاوّل) اور جب امیر معاویہؓ نے حضرت علی سے آپ کی خلافت کی دلیل طلب کی تو آپ نے جواب دیا۔انه بايعني ان الذين بايعوا أبا بكرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ مَا بِايَعُوهُمْ عَلَيْهِ - کہ میری بیعت ان لوگوں نے کی ہے جنہوں نے ابو بکرا عریض اور عثمان کی بیعت کی تھی اور انہیں اصولوں پر کی ہے جن پر ان تینوں کی بیعت کی تھی۔اور آگے فرمایا۔فان اجْتَمَعُوا عَلَى رَجُلٍ وَسَمُّوا مَا مَّا كَانَ ذَلِكَ لله يضا۔نہج البلاغہ مشہدی منشا ( من کتاب لہ انی معاویہ) ( پنج ایسالہا نہ جلد ۲ صت مطبوعہ مصر ) کہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر کسی ایک شخص کے ہاتھ پر جمع ہو جاتے ہیں اور اسے اپنا امام تسلیم کر لیتے ہیں تو خدا کی رضا اس شخص کے شامل حال ہو جاتی ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان، اعمالِ صالحہ اور اپنے تقومی و طہارت کے لحاظ سے اس معیار پر قائم ہیں کہ خدا کی مرضی ، خدا کی رضا اور خدا کا وعدہ ان لوگوں میں پورا ہوتا ہے۔گویا حضرت علی نے اپنی بیعت کرنے والوں کے ایمان اور تقویٰ پر فخر کیا ہے اور اسے قیام خلافت کی دلیل بنا کر پیش کیا کہ خدا کا وعدہ مومنوں اور اعمال صالحہ کرنے والوں کے ساتھ ہے۔پس وہ جماعت جس میں خلافت راشدہ قائم ہو اس بات کی کافی دلیل ہے کہ وہ جماعت مومنین اور