حصارِ — Page 50
وہ اعتراض ہے جو منکرین نبوت انبیائے وقت پر کرتے رہے اور منکرین خلافت خلفائے وقت پر۔یہی اعتراض حضرت خلیفتہ ایسیح الاول رضی اللہ عنہ پر اور بعد میں آنے والے خلفاء پر بھی کیا گیا اور خدا جانے کب تک کیا جاتا رہے گا۔دراصل شیطان مؤمنین کی جماعت پر مختلف اطراف سے مختلفہ بھیس بدل کر حملہ آور ہوتارہتا ہے۔کہیں وہان میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے کبھی مذہبی قیادت کے خلاف عدم اعتماد پیدا کرنے کی کبھی وہ پیچھا کٹنی کا روپ دھار لیتا ہے اور یہ باور کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ امام وقت سے بڑھ کر کوئی اور تمہارا ہمدرد اور بہی خواہ موجود ہے۔کبھی وہ ظاہری علم کی قباد اوڑھ کر آتا ہے اور یہ وسوسہ پھیلاتا ہے کہ تمہارے امام کا علم خام ہے جبکہ اس کی نسبت بہت بڑے بڑے عالم تم میں موجود ہیں۔کبھی وہ ایک جنبتہ پوش عابد وزاہد بن کر ان کو ورغلاتا ہے کہ تمہارے امام سے کہیں بڑھ کر خدا کا پیارا تم میں موجود ہے۔پس جو کچھ مانگنا ہے، اس کی معرفت مانگو۔حضرت خلیفة المسیح الثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا جماعت احمدیہ پر ایک عظیم احسان ہے کہ اس قسم کے فتنہ پردازوں کے اطوار و عادات کو بار بار ایسی وضاحت کے ساتھ کھول کر جماعت کے سامنے رکھ دیا ہے کہ اب جب بھی حسین تھیں میں بھی فتنہ پر دار حملہ آور ہوتے ہیں، جماعت کی بھاری اکثریت کار و عمل اس مصرعہ کے مصداق ہوتا ہے 8 ہم سمجھے ہوئے ہیں اُسے جس بھیس میں جو آئے ہاں چند احمق یا روحانی بیمار اور منافق طبع لوگ ضرور ہر بارشیطان کے ہاتھ لگ جاتے ہیں اور قرآن کریم کا یہ پہلا سبق بھول جاتے ہیں کہ سب سے پہلا فریب جو ابلیس نے خود کھایا اور اپنے متبعین کو کھلایادہ انا خیر منہ کا فریب تھا۔حق پرست اور حق شناس بندگان خدا کا امتیازی نشان انا خَيْرٌ مِنْهُ کا دعوی نہیں بلکہ انا احْفَرُ الظُّلُمَانِ “ کا اعلان ہوتا ہے۔وہ خود عاجزانہ راہوں پر قدم مارتے ہیں اور دنیا کو بھی یہی تعلیم دیتے ہیں کہ سے بدتر بنو ہر ایک سے اپنے خیال میں شاید اسی سے دخل ہو دار الوصال میں