حصارِ — Page 49
۴۹ اخلاص کے مراتب میں کہاں تک ترقی کی ہے۔اور وہ سطریں یہ ہیں : - مولنا مرشد نا امامنا - السلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔عالیجناب امیری دعا یہ ہے کہ ہر وقت حضور کی جناب میں حاضر رہوں۔اور امام الزمان سے جس مطلب کے واسطے وہ مجدد کیا گیا، وہ مطالب حاصل کروں۔اگر اجازت ہو تو میں نوکری سے تعفیٰ دے دوں اور دن رات محدرت عالی میں پڑا رہوں یا اگر کم ہو تواس تعلق کو چھوڑ کر دنیا میں پھروں اور لوگوں کو دین حق کی طرف بلاؤں اور اسی راہ میں جان دے دوں۔میں آپ کی راہ میں قربان ہوں۔میرا جو کچھ ہے، میرا نہیں آپ کا ہے۔حضرت پیرو مرشد یں کمال راستی سے عرض کرتا ہوں کہ میرا سارا مال و دولت اگر دینی اشاعت میں خرچ ہو جائے تو میں مراد کو پہنچ گیا یا لے اس بحث میں یاد رکھنے کے لائق نکتہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقدس بندوں پر اس قسم کے اعتراض کرنے والوں کو خواہ وہ پہلے گزرے ہوں یا بعد میں آئیں، آپ عموماً خود مالی قربانی کرنے والوں کی صف میں سب سے پیچھے کھڑا ہوا پائیں گے یا پھر محض تماش بینوں کی حیثیت رکھتے ہوں گے ایسے لوگوں کا مقصد نہ کبھی پہلے نیک ہوا نہ آئندہ ہو گا محض ریا کاری یا نفاق پھیلا نا یا کسی ذاتی نجش کا انتقام لینا ان کا مقصد ہوتا ہے۔یہ اعتراض کہ حق حق دار کو نہیں پہنچا بلکہ کمتر شخص کو اختیار کرلیا گیا ہے حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ پر عائد کی جانے والا یہ اعتراض بھی ہزاروں سال پرانا م سے روحانی خزائن دفتح اسلام) جلد ۳ ص۳۵ ، مت ۳