حصارِ

by Other Authors

Page 47 of 72

حصارِ — Page 47

بیٹھنے والایہ بوڑھا آج مسند خلافت پر رونق افروز ہے۔ستم ظریفی دیکھئے کہ اسی انتہائی منکسر المزاج بزرگ پر بعد ازاں تکبر اور نخوت کے الزام لگائے گئے اور وہ لوگ جو خود اطاعت کے مفہوم ہی سے نابلد تھے اسی عاشق صادق اور اطاعت مجستم بزرگ پریہ افتراض بھی کرنے لگے کہ نعوذ باللہ آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کے منشائے مبارک اور وصیت کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے جماعت کو غلط راستے پر ڈال رہے ہیں۔یہ ستم ظریفی تو ہے لیکن تعجب کی بات نہیں کیونکہ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا آیا ہے اور ایسا ہی ہوتا رہے گا۔اور خُدا کے برگزیدہ بندے ادنی اونی انسانوں کے ہاتھوں دُکھ اٹھاتے رہیں گے۔قومی اموال میں غلہ تصرف کا الزام ایک اعتراض یہ اٹھایا گیا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کو نعوذ باللہ جماعتی اموال کا در دنہیں اور بھیرہ کے ایک ہم وطن شخص کی ناجائز رعایت کر کے اُسے جماعت کی جائیداد اونے پونے دیجارہی ہے۔یہ اعتراض بھی پرانے منافقین کی روش کا اعادہ ہے۔خلفائے راشدین کی تاریخ سے واقفیت رکھنے والے احباب پر خوب روشن ہوگا کہ کس طرح معترضین نے ایک کے بعد دوسرے خلیفہ پر مالی بے ضابطگیوں اور نا انصافیوں کے الزامات عائد کئے۔خلفاء تو پھر خلفاء تھے دونوں جہان کے سردار حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی عالم اس بارہ میں زبان طعن دراز کرنے سے باز نہ آئے یعنی اس سردار دو عالم پر بھی قومی اموال کی ناجائز تقسیم کا الزام لگا یا گیا جو اس دنیب میں بھی عدل کی بلند ترین کرسی پر فائز فرمایاگیا اور قیامت کے دن بھی خدا کے بعد عدل و انصاف کی کرسیوں میں ہی کی گریسی سب سے اونچی ہوگی۔خدا کا بی تو براہ راست خدا کا انتخاب ہوتا ہے لیکن نہی کے لکھاء کا انتخاب چونکہ اہلی تصرف کے تحت نبی کی تربیت یافتہ صالحین کی جماعت کرتی ہے اور انتخاب کے وقت معیارمحض تقوی اللہ ہوتا