حصارِ

by Other Authors

Page 43 of 72

حصارِ — Page 43

۴۳ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ میں پھر خلافت راشدہ کے قیام کی بڑی واضح پیش گوئی ملتی ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد خلافت راشدہ کا قیام ہوا تو تمام جماعت بالاتفاق حضرت حاجی الحرمین شریفین حکیم مولوی نورالدین رضیاللہعنہ کے ہاتھ پرجمع ہوئی اور آپ کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے کہ آپ کو خلیفہ ایسے اور اپنا آقا و مطاع تسلیم کیا۔مخالفین احمدیت تو جماعت کی تباہی کے خواب دیکھ رہے تھے اس لئے طبعا خلافت کا قیام ان کے لئے سخت تکلیف دہ امر تھا۔مگر کچھ دیر کے بعد بظاہر انبارع خلافت کا دعوی کرنے والے بعض منافق طبع لوگوں نے سراٹھایا ، انہوں نے خلافت راشدہ کی برکات ، فیوض اور اس کی اہمیت کو نظر انداز کیا اور خلیفہ وقت کی ذات اور اُس کے اختیارات کے بارہ میں بخشیں شروع کر دیں اور خلافت کو بے حیثیت ثابت کرنے بلکہ زائل کرنے کے لئے باقاعدہ پروگرام مرتب کئے اور آہستہ آہستند یہ ایک منظم فتنہ کی صورت میں منصہ شہود پر رونما ہوئے۔" حضرت خلیفتہ ایسیج الاول رضی اللہ عنہ کے دور میں جو انکارِ خلافت کا فتنہ اٹھا اس کے نقوش کے بغور مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مذہبی دنیا میں رونما ہونے والا کوئی نیا اور الگ فتنہ نہیں تھا بلکہ الہی جماعتوں کی تنظیم کو کمزور کرنے اور مرکز بیت کو پراگندہ کرنے کے لئے ہمیشہ مذہبی دنیا میں سی شکل وصورت کے فتنے برپا ہوتے رہے ہیں اور آئندہ بھی تاقیامت برپا ہوتے رہیں گے۔ذیل میں شفیق وار اس کا تجزیہ پیش کیا جاتا ہے :- امام وقت پر آمریت کا الزام حضرت خلیفہ ربیع الاول رضی اللہ عنہ پر ایک خطرناک اعتراض یہ کیا جاتا تھاکہ آپنے جماعت پر اپنا حکم ٹھونس کر آمرین بیٹھے ہیں در جماعت کے تمہوری نظام کو آمریت میں تبدیل کر رہے ہیں۔اس ضمن میں یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ قرآن کریم کی شہادت کے مطابق گزشتہ انبیاء علیهم السلام