حصارِ

by Other Authors

Page 37 of 72

حصارِ — Page 37

جو اخلاص کے ساتھ دعا کے لیے لکھتا ہے اور اس کا عمل ثابت کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے عہد پر قائم ہے کہ جو نیک کام آپ مجھے فرمائیں گے ان میں میں آپ کی اطاعت کروں گا۔ایسے مطیع بندوں کے لیسے تو بعض دفعہ ہم نے یہ نظارے دیکھے ، ایک دفعہ نہیں ، بسا اوقات یہ نظار سے دیکھے کہ وہاں پہنچی بھی نہیں دعا اور پھر قبول ہو گئی۔ابھی کی جارہی تھی دعا تو اللہ تعالیٰ اس پر پیار کی نظر ڈال رہا تھا اور وہ دعا قبول ہو رہی تھی۔بعض دفعہ دعا بنی بھی نہیں تو وہ دعا قبول ہو جاتی ہے۔اس لیے یہ ایسا ایک بنیادی اصول ہے جس کو ہمیشہ ہر احمدی کو پیش نظر رکھنا چاہیئے۔اگر محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پیچھے دل اور پیار سے بھیجتا ہے اور وفا کا تعلق رکھتا ہے اپنے محبوب آتا ہے۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کی ساری دعائیں ہمیشہ کے لیے ایسے امتیوں کیلئے شنی جائیں گی اور اگر وہ خلافت سے ایسا تعلق رکھتا ہے اور پوری وفاداری کے ساتھ اپنے عہد کو نبھاتا ہے اور اطاعت کی کوشش کرتا ہے تو اس کے لیے بھی دعائیں سنی جائیں گی بلکہ ان کہی دعائیں بھی شنی جائیں گی اس کے دل کی کیفیت ہی دعا بن جایا کرے گی۔پس اللہ تعالے جماعت کو حقیقت دعا کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے " (الفضل ۲۷ جولائی ۱۹۸۲) اس کا فلسفہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے یوں بیان فرمایا ہے کہ :۔اللہ تعالیٰ جب کسی کو منصب خلافت پر سر فراز کرتا ہے تو اس کی دعاؤں کی قبولیت بڑھا دیتا ہے کیونکہ اگر اس کی دعائیں قبول نہ ہوں تو پھر اس کے اپنے انتخاب کی ہتک ہوتی ہے۔“ منصب خلافت ص۳۲)