حصارِ — Page 25
حصار ایم<mark>ان</mark> <mark>خلافت</mark> کے ذریعہ ملنے والی تمام برکتوں کے ہم<mark>راہ</mark> یہ عظیم الش<mark>ان</mark> برکت بھی جماعت مومنین کو عطا ہوتی ہے کہ مومن ہر قسم کی لغزش اور گم<mark>راہ</mark>ی سے بچ جاتے ہیں۔<mark>خلافت</mark> ایک حصار ہے <mark>جو</mark>طاغوتی حملوں اور دشمنوں کے شیط<mark>ان</mark>ی ارادوں سے جماعت کو محفوظ و مصئون رکھتا ہے۔<mark>خلافت</mark> خدا داد <mark>ہدایت</mark> سے جماعت کے لیے <mark>راہ</mark>نمائی کے سام<mark>ان</mark> کرتی ہے ایک امام کے ہاتھہ کے ساتھ اٹھنے والی اور ایک امام کے ہاتھ کے گرنے کے ساتھ بیٹھ ج<mark>ان</mark>ے والی جماعت کس <mark>طرح</mark> <mark>راہ</mark> سداد سے بھٹک سکتی ہے گ<mark>راہ</mark>ی کی تاریکی کسی <mark>طرح</mark> <mark>ان</mark> کے دلوں کو ڈھ<mark>ان</mark>پ سکتی ہے ؟ یہ اللهِ فَوْقَ الجَمَاعَةِ کی نوید بھی ایسی ہی جماعت کے لیے ہے۔<mark>خلافت</mark> راشدہ اولیٰ کے زم<mark>ان</mark>ہ میں منافقوں نے جب <mark>خلافت</mark> پر نکتہ چینیاں شروع کیں اور <mark>خلافت</mark> کی قدر و منزلت کم کرنے کے لیے اوہام اور وساوس کا جال بچھا دیا تو ایک عظیم المرتبت صحابی حضرت حنظلہ الکاتب نے <mark>اس</mark> نعمت خداوندی کی ناشکری ہوتے دیکھی تو <mark>تعجب</mark> کے ساتھ فرمایا :۔تجَبْتُ بِمَا يَخُوضُ النَّ<mark>اس</mark>ُ فِيهِ يرمُونَ الخِلَافَة اَنْ تَزُول وتور التْ دَزَالَ الخَيْرُ عَنْهُمْ وَلَا قُوا بَعْدَهَاذِ لا ذليلاً وَكَ<mark>ان</mark>ُوا عَالِيَهُودِ أَوِ النَّصَارَى سَوَاءَ كُلُّهُمْ ضَلُّوا السَّبِيل ( تاریخ ابن اثیر )