حصارِ

by Other Authors

Page 44 of 72

حصارِ — Page 44

۴۴ پر بھی اسی قسم کے اعتراض کئے گئے بلکہ حضرت شعیب علیہ اسلام کی جمہوریت پسند قوم نے تو آپ کے انکار کی ایک بڑی دلیل یہ پیش کی کہ ہم اپنے معاملات میں تمہارے حکم کے تابع کیسے ہوسکتے ہیں۔اسی طرح تاریخ اسلام سے ثابت ہے کہ مدینہ کے یہودی اور منافقین خود سید ولد آدم حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلتو پر بھی اعتراض کرتے اور اہل مدینہ کو اس بناء پر بددل کرنے کی کوشش کرتے تھے کہ نعوذ باللہ اسلام کا رسول آمر بننے کی کوشش کرتا ہے۔پس یہ جمہوریت کی رٹ کوئی نئے زمانہ کی پیداوار نہیں، نہ ہی جدید روشنی اور ترقی یافتہ تہذیب و تمدن سے اس کا کوئی تعلق ہے۔بلکہ جب سے خُدا تعالیٰ کے مقرر کردہ اولی الامر دنیا میں آرہے ہیں جمہوریت کے نام پر ان کے خلاف بغاوت پر اکسانے کی کوششیں بھی ہوتی رہی ہیں۔اگرچہ دیوی آمر اور مذہبی رہنما کے اولی الامر ہونے کے مابین قطبین کا بعد ہے لیکن آمر کے لفظی اشتراک کے باعث بعض اوقات فتنہ پرداز عامتہ الناس کو دھوکا دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔آمر اور اولی الامرمیں متعدد دوسرے بنیادی اختلافات کے علاوہ جن پر انسان ادنی سے تدبیر سے اطلاع پا سکتا ہے۔ایک فرق یہ ہوتا ہے کہ جب کہ آمر ایک مادر پدر آنداد اور جابر حکم ہوتا ہے جس کی حکومت بیرونی پابندیوں سے نا آشنا اور جبرو اکراہ پر مبنی ہوتی ہے۔اولی الامر بیک وقت ایک پہلو سے آمرا ور ایک پہلو سے مامور ہوتا ہے اور براہ راست جموں پر نہیں بلکہ دلوں کی معرفت اجسام پر حکومت کرتا ہے وہ ایک مذہبی ضابطہ حیات اور دستور العمل کے اس حد تک تابع ہوتا ہے کہ سرمو بھی اس سے اخراف نہیں کر سکتا اور اتنے اخلاص اور فروتنی اور احترام کے ساتھ اس کے ایک ایک نقطے پر عمل پیرا ہوتا ہے کہ کوئی دنیوی جمہوریت کا پرستار اس کا عشر عشیر بھی اپنے جمہوری دستور کا احترام نہیں کرتا۔آمر کا تو معاملہ ہی الگ ہے۔ایک جمہوری حکمران بھی جب چاہے، اپنی چرب زبانی اور اثر ورسوخ سے کام لے کر بنیادی جمہوری دستور کی ہر اس شق کو تبدیل کروا سکتا ہے، جسے وہ ناپسند کرے لیکن ایک اُولی الامر مامور من اللہ کو اتنی بھی قدرت نہیں کہ قانون شریعت کا ایک شعشہ بھی اپنے مقام سے ٹال سکے۔المختصر یہ کہ ایک مامور من اللہ پر دنیاوی معنوں میں امر ہونے کا الزام لگانا یا توجہالت کے -