حصارِ

by Other Authors

Page 36 of 72

حصارِ — Page 36

E سے خلافت حفظہ میں ملاحظہ کرتا ہے۔چنانچہ جب ۱۹۷۴ء میں جماعت احمدیہ کو مصائب کے طوفان سے گزارا گیا تو ہی دعائیں تھیں جو خلیفۂ وقت کے دل سے نکل کر جماعت کے لیے سکون و قرار کا موجب نہیں اور جماعت کا در وخلیفہ وقت اپنے دل میں محسوس کر کے اسے اپنا درد سمجھ کر خدا کے حضور تڑپتا تھا جیسا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔دنیوی لحاظ سے وہ تلخیاں جو دوستوں نے انفرادی طور پر سویس کہیں وہ ساری تلخیاں میرے سینے میں جمع ہوتی تھیں۔ان دنوں مجھ پر ایسی راتیں بھی آئیں کہ میں خدا کے فضل اور رسم سے ساری ساری رات ایک منٹ سوئے بغیر دوستوں کے لیے دعا کرتا رہا ہوں کیا (جلاس سالانہ کی دعائیں ص۹) اسی طرح قبولیت دعا کی نعمت کو خلیفہ وقت سے وابستہ کرتے ہوئے حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :۔تمہارے لیے ایک شخص تمہارا درد رکھنے والا ہے اور تمہاری محبت رکھنے والا اور تمہار سے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے والا ، تمہاری تکلیف کو اپنی تکلیف جاننے والا اور تمہارے لیے خُدا کے حضور دعائیں کرنے والا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمہارا اسے فکر ہے ، درد ہے اور وہ تمہارے لیے اپنے مولیٰ کے حضور دعائیں کرنے والا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمہارا اسے فکر ہے، درد ہے اور وہ تمہارے لیے اپنے مولیٰ کے حضور تڑپتا رہتا ہے ( برکات خلافت) پس یہ دوسر ارشتہ ہے دعا کا خلافت سے کہ اُدھر خلیفہ وقت کی دعائیں مومنوں کے لیے قبول کی جاتی ہیں اور ادھر مومنوں کی دعائیں خلیفہ وقت سے پختہ تعلق کی بناء پر پا یہ قبولیت کو پہنچتی ہیں۔اسی حقیقت کو حضرت خلیفہ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بڑی وضاحت کے ساتھ جماعت کے سامنے پیش فرمایا کہ :۔میں بتانا چاہتا ہوں کہ میں نے پہلے بھی بھی دیکھا تھا اور آئندہ بھی یہی ہوگا کہ اگر کسی احمدی کو منصب خلافت کا احترام نہیں ہے ، اس سے سچا پیار نہیں ہے ، اس سے عشق اور وارفتگی کا تعلق نہیں ہے اور صرف اپنی ضرورت کے وقت وہ دعا کے لیے حاضر ہوتا ہے تو اس کی دعائیں قبول نہیں کی جائیں گی۔یعنی خلیفہ وقت کی دعائیں اس کے لیے قبول نہیں کی جائیں گی۔اُسی کے لیے قبول کی جائیں گی۔