ہجرت سے وصال تک

by Other Authors

Page 64 of 142

ہجرت سے وصال تک — Page 64

۶۴ تیسرے صحابی کو وہیں قید کے وقت قتل کر کے ڈال گئے تھے۔بچہ۔امی یہ کیسے بہادر لوگ تھے میں بھی اللہ پاک اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی ہی محبت کروں گا۔ماں۔اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اُس نے آپ کے دل میں محبت کا جذبہ ڈال دیا۔اللہ اپنے سے پیار کرنے والوں کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔یہ زندگی تو عارضی ہے۔مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ ہمیشہ کی زندگی دے گا اور ہمیشہ کا اجر مجھی۔یہ لوگ اس حقیقت کو سمجھ گئے تھے اس لئے اللہ کے رستے میں جان دنیا ان کے لیے آسان بلکہ خوشی کا باعث ہو گیا تھا۔اب اللہ پاک کی اپنے پیاروں کی مدد کا ایک دلچسپ واقعہ سینیئے۔قریش مکہ نے خاص طور پر کچھ لوگوں کو رجیع کی طرف روانہ کیا تا کہ وہ عاصم بن ثابت کے جسم کا کوئی حقیہ لے آئیں میں سے تسلی ہو اور جذبہ انتقام تسکین پائے۔ناپاک لوگ وہاں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ عاصم کے جسم پر زنبوروں اور شہد کی نرمکھیوں کے جھنڈ کے جھنڈ سایہ کئے ہوئے ہیں جن کی موجودگی میں وہ اپنے ہدارا دوں میں کامیاب نہ ہو سکے۔اس کے بعد جلد ہی طوفانی بارش ہوئی جو عاصم کی لاش کو بہا کہ نامعلوم جگہ پر لے گئی۔بچہ۔اللہ تعالیٰ نے کہا اچھا کیا ورنہ ایک شہید کے جسم کو مشرک ہاتھ لگاتے۔ماں۔اللہ تعالیٰ کے سب کام پیارے ہوتے ہیں۔اسی قسم کا ایک واقعہ اور بھی ہوا۔عرب کے درمیان میں ایک شہر سجد ہے یہاں کے لوگ اسلام کے بہت خلاف تھے۔اور یہ شہر ایک طرح مخالف قبائل کا گڑھ بن گیا