ہجرت سے وصال تک — Page 122
۱۲۲ آکر اسی واسطے سے معافی مانگی۔آپ نے اپنے اور بنو عبدالمطلب کے حقے کے قیدیوں کو معافی دے دی اس پر سب مہاجرین و انصار نے اپنے قیدیوں کو بھی آزاد کر دیا۔قیدیوں کی تعداد چھ ہزار تھی۔بچہ۔آپ کو اپنی رضاعی والدہ کا کتنا لحاظ تھا۔سبحان اللہ ماں۔اللہ پاک نے آپ کو معاف کرنے والا دل دیا تھا۔ان قیدیوں میں آپ کی رضاعی بہن شما بھی تھیں۔اُس نے بتایا کہ میں آپ کی رضاعی بہن شیما ہوں۔مگر اتنا زمانہ گذرنے کی وجہ سے آپ انہیں پہچان نہ پائے بشمار نے بتایا کہ آپ نے مجھے کندھے پر کاٹا تھا اس کا نشان ابھی تک ہے آپ کو یاد آگیا آپ نے بڑی عزت سے بٹھایا اور اپنی طرف سے بہت سا روپیہ ، ایک لونڈی اور ایک غلام تحفے میں دے کہ رخصت کیا۔اسیرة النبی شبلی نعمانی صاله ، طبقات ابن سعد واصابه و طبری جلد) بچہ۔آپ نے بتایا کہ شیما کو اپنی طرف سے تھے دیئے اور جو اتنا مال غنیمت تقسیم ہو رہا تھا اُس میں سے نہیں دیا۔ماں۔مال غنیمت تو اُن کو ملتا تھا جن کا حق ہوتا تھا۔شیما سے تو آپ اپنی ذات کی طرف سے حسن سلوک کرنا چاہتے تھے۔مال غنیمت کی تقسیم میں آپ نے اتنی ایمان داری کا سبق دیا کہ کوئی ایک سوئی بھی بغیر اجازت اور بغیر حق کے نہیں لے سکتا تھا۔ہاں آپ نئے مسلمان ہونے والوں سے محبت کے اظہار میں مال غنیمت میں سے عطا فرماتے تھے۔مقام جعرانہ میں مال کی تقسیم کے بعد کچھ انصاری نوجوانوں نے باتیں کہیں