ہجرت سے وصال تک — Page 61
예 روشنی ڈالی گئی ہے اور مسلمانوں کو آئندہ کے لئے ہدایتیں دی گئیں۔اسی زمانے میں سورہ نساء کا وہ حصہ نازل ہوا جس میں فوت ہونے والے کی جائیداد کی تقسیم کا طریق بنایا گیا۔اسلام سے پہلے جائیداد سے خواتین کو حقہ نہیں ملتا تھا۔اسلام نے عورتوں کو اُن کا حق دلوایا۔اُس زمانے کی ایک اور بُری بات کثرت سے شراب پینا تھی۔سنہ ہجری کے آخر یا سنہ ہجری کے شروع میں خدائی وحی کے مطابق شراب حرام قرار دے دی گئی ہے آپ کو پتہ ہے شراب سے نشہ ہوتا ہے اور نشہ چھوڑنا بے حد شکل ہوتا ہے۔یکدم چھوڑنا تو بہت ہی مشکل ہوتا ہے مگر مسلمان آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت میں اس قدر کہنا ماننے والے ہو گئے تھے کہ جب آپ نے مدینے کی گلیوں میں اعلان کر وایا کہ آج سے شراب حرام ہو گئی تو لوگوں نے شراب کے مشکے بہا دیئے۔مدینے کی گلیوں میں شراب ہی شراب بہتی نظر آرہی تھی کسی نے یہ پتہ کرنے کی بھی کوشش نہیں کی کہ اعلان کرنے والا سچ کہہ رہا ہے یا جھوٹ بس شراب سے ہاتھ کھینچ لیا۔بچہ کہنا ماننے کی عجیب مثال ہے۔ہاں۔در اصل صحابہ کرام آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قدر محبت کرتے تھے کہ اُن کے ہر فرمان پر دل و جان سے صل کرتے تھے تا کہ اللہ پاک کی خوشنودی حاصل ہو۔جنگِ اُحد کے بعد مختلف قبائل نے جو پہلے لے (زرقانی حالات غزوہ احد)