ہجرت سے وصال تک — Page 56
۵۶ کیا حضرت طلو نے نگے ہاتھ پر دار سہا اس کی تلوار حضرت ملوں کے ہاتھ کو کاٹتی ہوئی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو پر لگی۔آپ چکرا کر گر گئے تو ابن قیمیتہ پھر زور سے چلایا " میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو مار لیا ہے۔آپ کو تو حضرت علی اور حضرت طلحہ نے اوپر اُٹھا لیا اور مسلمانوں کو اطمینان گیا مگر کفار یہ مجھے کہ کام ختم ہو گیا۔لڑائی کی طرف سے توجہ ہٹائی اور اس طرح یہ جنگ ختم ہوئی۔آپ اپنے صحابہ کو لے کر اُحد پہاڑ پر چڑھ کہ ایک محفوظ درے میں پہنچ گئے۔حضرت علی نے آپ کے زخم دھوئے۔حضرت ابو عبیدہ بن الجراح نے بڑی مشکل سے اپنے دانتوں سے کھینچ کہ آپ کے رخسار مبارک سے مغفر کی کڑیاں نکالیں۔اس کوشش میں ان کے دو دانت اکھڑ گئے۔کتنے بڑے لوگ تھے اپنے نبی کو خون سے رنگ دیا مان۔وہ تو بڑے تھے ہی مگر یہ دیکھیں کہ آپ کتنے اچھے تھے اس عالم میں بھی اگن کے لئے دعا کر رہے تھے۔اسے میرے اللہ ! تو میری قوم کو معاف کمہ دے کیونکہ ان سے یہ قصور جہالت اور لاعلمی میں ہوا ہے۔ا مسلم حالات أحد) حضرت فاطمتہ الزہر آ مد ینے سے اُحد پہنچیں اور اپنے ابا جان کو زخمی حالت میں دیکھ کہ فورا زخموں کو دھونا شروع کیا۔خون بند ہی نہیں ہو رہا تھا۔حضرت فاطمہ نفر نے ایک چٹائی جلا کہ اس کی راکھ آپ کے زخم پہ رکھ کر پٹی باندھی تو خون بند ہوا۔( بخاری کتاب المغازی حالات أحد)