ہجرت سے وصال تک

by Other Authors

Page 54 of 142

ہجرت سے وصال تک — Page 54

۵۴ فوراً جھنڈا بائیں ہاتھ سے تھام لیا اور جب اُس نے بایاں ہاتھ بھی کاٹ دیا تو دونوں کٹے ہوئے ہاتھوں کو جوڑ کہ جھنڈا تھامنے کی کوشش کی اور جھنڈا سینے سے چھٹا لیا۔ابن قمیہ نے پھر وار کر کے حضرت مصعب کو شہید کر دیا۔جھنڈا تو کسی دوسرے مسلمان نے تھام لیا۔مگر ابن قمیہ نے حضرت مصعب کے گرتے ہی شور مچا دیا کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کو مار لیا ہے، مسلمان بہت بد دل ہوئے۔تھوڑے سے تو بھاگ کہ مدینہ پہنچ گئے اور وہاں جا کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خیالی شہادت اور مسلمانوں کی شکست کی خبر سنائی ، مدینے کے لوگ اس خبر کے ساتھ جلد جلد دوڑتے ہوئے اُحد کے میدان جنگ میں پہنچے۔کچھ مسلمان شکست کی تکلیف میں ایک طرف افسردہ ہو کہ بیٹھ گئے۔ایک بڑا گہر وہ آپ کے ارد گرد جمع تھا اور بہادری سے دفاع کر رہا تھا۔ان کے مقابل پر چاروں طرف لاتعداد کفار تھے جو پتھروں اور تیروں کی بارش کر رہے تھے ایسے مشکل وقت میں اگر چہ مسلمان آپ کی حفاظت کے لئے آپ کے گرد جمع ہو گئے۔تاہم ایک شدید حملے میں ایک پتھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر لگا جس سے آپ کا دانت مبارک ٹوٹ گیا اور ہونٹ زخمی ہو گیا (ابن ہشام) دوسرا پتھر آپ کی پیشانی مبارک پر لگا اور تیسرا آپ کے رخسار پر لگا جس سے آپ کے مغفر (ہیلمٹ کی طرح کا سر یہ پہننے کا خود) کی دو کڑیاں آپ کے رخسار مبارک میں چھے گئیں۔اور آپ بہت زخمی ہو گئے۔