ہجرت سے وصال تک

by Other Authors

Page 116 of 142

ہجرت سے وصال تک — Page 116

114 کرنے کا فیصلہ فرما چکا تھا ہوا یوں کہ قبیلہ بنو بکر جو قریش مکہ کا حامی تھا اور قبیلہ خزاعہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا آپس میں لڑ پڑے۔قریش نے پہلے وعدہ خلافی کی اور بنو بکر کی مدد کی اس پر نینو خزاعہ نے مسلمانوں کو مدد کے لئے پکارا۔آپؐ نے قریش کے پاس قاصد بھیجا کہ معاہد کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔اس پر انہوں نے معاہدہ توڑنے کا اعلان کر دیا۔بچہ۔ابھی تو معاہدے کو دو ہی سال ہوئے تھے۔ماں۔معاہدہ قائم رہ بھی نہیں سکتا تھا قریش بار بار بد عہدی اور چالا کی کرتے تھے۔اب علی الاعلان معاہدہ توڑنے سے کوئی روک باقی نہ رہی تو آپ نے خاموشی سے مکہ فتح کرنے کے لئے لشکر تیار کر نا شروع کیا۔آپ کا منصوبہ تھا کہ راز داری سے کام ہو۔آپ نے دُعا بھی کی کہ اے اللہ مخبروں اور خبروں کو اہل مکہ سے روک دے تاکہ ان کو ہمارے پہنچنے کی بالکل خبر نہ ہو۔" (ابن ہشام (۲۶) آپ نے اپنے پروگرام سے گھر والوں کو بھی آگاہ نہیں کیا تھا جب حضرت عائشہ آپ کا سامان تیار کر رہی تھیں تو ان کے ابا جان حضرت ابو بکر رض نے پوچھا " بیٹی رسول اللہ کہاں تشریف لے جا رہے ہیں یا تو اُن کو جواب ملا یہ تو آپ نے نہیں بتایا۔اللہ پاک ہمیشہ آپ کے ارادوں کو پورا کرنے کے سامان فرمانا تھا۔مزے کا واقعہ سنو۔ایک صحابی حضرت حاطی کے رشتہ دار مکہ میں تھے۔انہوں نے سوچا نکہ تو فتح ہو ہی جاتا ہے چلو ذرا قریش مکہ یہ احسان کر دیں کہ اطلاع پہنچا دیں تاکہ وہ اس کار خیر کا لحاظ رکھ کے اُن کے رشتہ داروں سے اچھا سلوک کریں۔ایک خط