ہجرت سے وصال تک — Page 91
۹۱ مختلف علاقوں کے مخالف مل بیٹھے اور ترکیبیں سوچتے کہ کس طرح اسلام کی طاقت کو کم کیا جاسکتا ہے۔ان علاقوں میں ایسے قبائل بھی تھے جو دل سے مسلمان ہو چکے تھے مگر مخالفت کے خوف سے اعلانیہ اظہار نہ کر سکتے تھے۔ان کی مدد اور مذہبی آزادی کے قیام کے لئے شعبان سنہ ہجری ( مطابق دسمبر عہ) ایک فوجی دستہ حضرت عبدالرحمن بن عوف کی قیادت میں دومة الجندل کی طرف روانہ کیا گیا۔بچہ۔اتنی مصروف زندگی میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کی تربیت کسی طرح فرماتے تھے۔ماں۔آپ کا اُٹھنا بیٹھنا ، سونا جاگنا ، عبادت اور مجالس زندگی کا ہر لہ عملی تربیت کا نمونہ تھا آپ ہر بات میں حکیمانہ رہنمائی فرماتے۔مثال کے طور پر اسی سریے پر روانگی کی تیاری ہو رہی تھی آپ کی خدمت میں حضرت ابو بکر را حضرت عمرہ حضرت عثمان ، حضرت علی منہ اور حضرت عبد الرحمن بن عوف حاضر تھے ایک انصاری حاضر ہوا اور پوچھا یارسول اللہ ! مومنوں میں سے سب سے افضل کون ہے۔آپ نے فرمایا۔" وہ جو اخلاق میں سب سے افضل ہے۔" اُس نے کہا " اور با رسول اللہ سب سے زیادہ منتفی کون ہے۔" آپ نے فرمایا۔" وہ جو موت کو یاد رکھتا ہے اور اُس کے لئے وقت سے پہلے تیاری کرتا ہے۔" آپ دیکھئے ان مختصر جملوں میں آپ نے کتنی باتیں سکھا دیں پھر ان نصائح