ہجرت سے وصال تک — Page 65
40 تھا۔یہاں کا ایک رئیس سردار ابو براء عامری آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ نجد کے لوگ اسلام کی طرف مائل ہیں اگر آپ کچھ علم روانہ فرما دیں تو سجدمیں کثرت سے اسلام پھیلنے کی توقع رض ہے۔آپ نے صفر سنہ ہجری میں منذر بن عمرو انصاری کی امارت میں ستر افراد جو زیادہ تر انصاری اور قرآن کا علم جاننے والے عباد گزار اجاب تھے روانہ کئے۔جب یہ لوگ اس جگہ پہنچے جو ایک کنوئیں کی وجہ سے بئر معونہ کہلاتی تھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایلچی کے طور پر حرام بن ملحان نے بنو عامر کو تبلیغ شروع کی تو انہیں پیچھے سے نیزہ مار کر شہید کر دیا گیا۔شہادت کے وقت اُن کی زبان پر یہ الفاظ تھے۔اللہ اکبر کعبہ کے رب کی قسم میں تو اپنی مراد پا گیا۔“ (بخاری کتاب الجہاد) پھر سب قبائل نے حملہ کر کے ستر کے ستر مسلمانوں کو شہید کر دیا صرف د وافراد عمرو بن امیہ خمری اور کعب بن زید باقی بچے۔پیچہ۔آپ کو تو بہت دکھ ہوا ہو گا۔ماں۔آپ کو دونوں واقعات کی اطلاع تقریباً ایک ساتھ ملی (زرقانی) آپ کو واقعی بہت صدمہ ہوا جحتی کہ روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ ایسا صدمہ نہ اس سے پہلے آپ کو کبھی ہوا تھا اور نہ کبھی بعد میں ہوار بخاری کتاب الجہاد) ہم کسی ایسے باپ کے صدمے کا اندازہ کر سکتے ہیں جس کو استی بیٹیوں کی وفات کی ایک ساتھ خبر ملے اور بیٹے بھی ایسے جو نیکی میں بے مثال اور قرآن پاک کے حافظ ہوں۔