ہجرت سے وصال تک

by Other Authors

Page 63 of 142

ہجرت سے وصال تک — Page 63

۶۳ ایک دن روسائے قریش خبیث کو کھلے میدان میں لے گئے تاکہ اُن کے قتل کا جشن منایا جائے۔خبیث نے شہادت سے پہلے دو رکعت نفل ادا کئے اور پھر کچھ اشعار پڑھے جن کا مطلب ہے میں اسلام کی راہ میں اور مسلمان ہونے کی حالت میں قتل کیا جا رہا ہوں تو مجھے یہ پرواہ نہیں ہے کہ میں کسی پہلو پر گھروں۔یہ سب کچھ خدا کے لئے ہے اور اگر میرا خدا چاہے گا تو میرے جسم کے پارہ پارہ ٹکڑوں پر برکات نازل فرمائے گا۔اُن کے الفاظ ختم ہوتے ہی عقبہ بن حارث نے تلوار کا وار کیا اور حبیب اللہ کے حضور حاضر ہو گئے۔بچہ۔اور زیدین دشنہ ؟۔ماں۔ان کا واقعہ بھی بڑا سبق آموز ہے۔جب ان کے قتل کا جشن منانے کے لئے روسائے قریش اکٹھے ہوئے تو ابو سفیان نے کہا۔سچ کہو کیا تمہارا دل یہ نہیں چاہتا کہ اس وقت تمہاری جگہ ہمارے ہاتھوں میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم) ہوتا جسے ہم قتل کرتے اور تم بچ جاتے اور اپنے اہل وعیال کے ساتھ خوشی کے دن گزارتے ؟ زید کی آنکھوں میں خون اتنہ آیا اور وہ غصے سے بولے۔ابوسفیان تم یہ کیا کہتے ہو خدا کی قسم میں تو یہ بھی نہیں پسند کرتا کہ میرے بچنے کے عوض میں رسول اللہ کے پاؤں میں ایک کانٹا تک چھے۔ابو سفیان نے کہا۔واللہ میں نے کسی شخص کو کسی شخص کے ساتھ ایسی محبت کرتے نہیں دیکھا جیسی کہ اصحاب محمد کو محمد سے ہے (ابن ہشام و ابن سعد)۔