ہجرت سے وصال تک — Page 58
۵۸ کا بے چینی سے انتظار تھا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وتم در ے سے اُترے اپنے شہدا کو دفن کر دایا۔۷۰ مسلمان شہید ہوئے تھے (بخاری حالات اُحد ) جبکہ کفار کی تئیس لاکش میں تھیں (ابن سعد) اس موقع پر آپ نے بہت سی اسلامی تعلیمات سکھائیں۔شہداء کو دفن کرنے اور نماز جنازہ پڑھنے کا طریق سکھایا۔پھر عرلوں کی ایک گندی رسم تھی کہ انتظام کے جوش میں مردوں کے ناک کان کاٹ لیتے تھے اس کو مثلہ کہتے تھے آپ نے فرمایا کہ مثلہ اسلام میں منع ہے۔مرنے والوں پہ بین کرنا اور اونچی آواز میں بول بول کر رونا بھی منع فرمایا۔آپ ہر رنگ میں ایک نیا اسلامی معاشرہ قائم فرمارہے تھے جس میں محبت، بھائی چارہ ، پیار، ایثار، قربانی ، احترام، عزت نفس کا دور دورہ تھا۔نفرت، دشمنی ، انتقام کی آگ سے بچنے کی تعلیم تھی۔شام کے وقت آپ نے واپسی کا سفر شروع کیا۔ایک انصاری عورت بڑی گھبراہٹ میں مدینے سے اُحد کی طرف آرہی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خیریت ہر ایک سے پوچھنتی تھیں کسی نے اُسے باپ کی بیٹے کی اور پھر بھائی کی شہادت کی خبر دی مگر وہ بے تاب ہو کہ آپ کا پوچھتی رہی۔جب اُسے بنایا گیا کہ رسول اللہ خیریت سے تشریف لارہے ہیں تو اُس کے منہ سے بے ساختہ نکلا ، " اگر آپ زندہ ہیں تو سب مصیبتیں ہیچ ہیں “ (ترمذی وابن ماجه ) (طبری ۱۳۳۵) بچہ۔کیسی محبت کر نے والی عورت تھی اور کتنا صبر تھا۔ماں۔صبر کے ایسے ایسے واقعات ہیں کہ یقین نہیں آتا کہ انسان اتنا بھی صبر کہ