ہجرت سے وصال تک — Page 55
۵۵ بچہ۔میری جان آپ پر قربان ہو صحابہ کا اس وقت کیا حال ہوا ہوگا۔جب اپنے آقا کو زخمی دیکھا ہو گا۔ماں۔اگر میں آپ کو سب صحابہ کی قربانیاں تیاؤں تو آپ کو رشک آئے گا جن صحابہؓ نے آپ کو گھیرے میں لے رکھا تھا۔پوری کوشش کر رہے تھے کہ ہر آنے والا پتھر اُن کو لگ جائے اور حضور محفوظ رہیں۔ہر تیرا ان کو چیر جائے پر محبوب آتا بچ جائیں مسلمانوں نے جان پر کھیل کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی اور دشمنوں پر تیر بھی چلائے۔حضرت ابوطلحہ من انصاری نے اتنے تیر بہ سائے کہ تین کمانیں ٹوٹ گئیں۔اسی طرح حضرت سعد بن وقاص بھی آپ کی طرف آنے والے دار خود پر لے رہے تھے اور تیر بھی چلارہے تھے حضرت ابو دجانہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کو چھپانے کے لئے ایسے کھڑے رہے کہ ان کا جسم تیروں سے چھلنی ہو گیا مگر وہ اس لئے حرکت نہ کر تے تھے کہ کہیں کوئی تیر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ لگ جائے۔کفار کا ریلہ اتنا شدید ہوتا کہ مٹھی بھر مسلمان بکھر جاتے۔ایک دفعہ تو آپ کے ساتھ صرف دو آدمی رہ گئے حضرت زیادین سکن کی پارٹی نے پروانوں کی طرح اپنی جانیں آپ کی حفاظت میں نثار کر دیں۔آپؐ نے فرمایا " زیاد کو اٹھا کہ میرے پاس لاؤ" لوگ زیاد کو اٹھا کر لائے وہ زخموں سے اس قدر چور تھے کہ اپنا سر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر رکھا اور جان دے دی۔ابن قمیہ بڑی تیزی سے آگے بڑھا اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر یا زور دار دار