ہجرت سے وصال تک

by Other Authors

Page 127 of 142

ہجرت سے وصال تک — Page 127

۱۲۷ کی بہین سفانہ بھی تھیں۔یہ بڑی سمجھدار خاتون تھیں۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے آزادی کی درخواست کی۔آپ نے کپڑے کھانا اور سواری کے لئے اونٹ دے کر قابل اعتبار لوگوں کے ساتھ شام روانہ کیا شام جاکر اس نے اپنے بھائی سے آپ کے حسن سلوک کی تعریف کی اور اصرار کیا کہ وہ آپ سے جا کر ملے عدی مدینے آئے اپنی آنکھوں سے آپ کے وصاف کر یا نہ دیکھے اور اسلام لے آئے۔بچہ۔آپ کی باتیں ہی اتنی پیاری ہوتی ہیں۔ماں۔آپؐ نے اپنے صحابیوں کی تربیت بھی ایسی کی تھی کہ انسانوں سے حسن سلوک کریں۔جب ارد گرد کے علاقوں میں مسلمان گورنر بھیجے تو اُن کو ایسی پیاری نصیحتیں فرماتے جن سے انسانوں کی خدمت ہو مثلاً حضرت معاذ بن جبل کو بین بھیجا تو نصیحت فرمائی۔لوگوں کے ساتھ نرمی کہ ناسختی نہ کرنا خوشی کی خبریں دینا۔نفرت نہ دلانا تم ایسے اہل کتاب کے پاس جا رہے ہو جو تم سے پوچھیں گے جنت کی کنجی کیا ہے تم جواب دینا جنت کی کنجی صرف لا إله إلا الله وحده لا شريك له کی گواہی ہے۔“ ابن هشام مه ۳۷) حضرت خالد بن ولید کو بنو حرت کی طرف نجران روانہ کیا اور یہ ہدایت فرمائی کہ لڑنے سے پہلے انہیں تین بار اسلام کی دعوت دنیا اگر قبول کم میں تو بہتر، دوسری صورت میں جنگ کرنی پڑے گی۔حضرت خالد نے