ہجرت سے وصال تک — Page 109
١٠٩ کسری نے آپ کا خط پھاڑ دیا جس پر آپ نے بد دعا دی کہ وہ بھی ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں۔خسرو پرویز شاہ ایران نے گورنہ یمین کو حکم دیا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے عرب میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اُسے گرفتار کر کے ہمارے پاس لاؤ۔گورنر مین نے اس حکم کی تعمیل میں دو سفیر آپ کی گرفتاری کے لئے بھیجے۔انہوں نے آکر اس بات پر زور دیا کہ آپ ہمارے ساتھ چلیں در نہ بادشاہ غصے میں عرب پر حملہ کر دے گا۔آپ نے انہیں دوسرے دن آنے کے لئے کہا۔جب وہ دوسرے دن آئے تو آپ نے فرمایا۔میرے خدا نے مجھے بتایا ہے کہ اُس نے آج رات تمہارے خداوند کو قتل کر دیا ہے۔میری طرف سے اپنے گورنر کو یہی پیغام دو ! گورنر اس پیغام پر سخت حیران ہوا اور کہا کہ چند دن انتظار کرتے ہیں اگر یہ خبر درست ہوئی تو یہ سچے نبی ہیں ورنہ کسری سارے عرب کو تباہ کمہ دے گا۔چند دن بعد بندرگاہ یہ ایک جہاز پہنچا جس کے ذریعے خسرو کے شیرویہ کا خط تھا کہ میں نے اپنے باپ کے ظلموں سے تنگ آکر اُسے قتل کر دیا ہے اور وہ حکم منسوخ کرتا ہوں جو میرے باپ نے عرب کے نبوت کا دعوی کرنے والے کی گرفتاری کا دیا تھا۔(طبری جلد ۳ ص ۱۸) اس طرح گستاخی کرنے والے شاہ ایران کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سترا ملی۔