ہجرت سے وصال تک — Page 59
۵۹ سکتا ہے پھر اللہ تعالیٰ کی خاطر جان دینے کا ایسا شوق کہ حیرت ہوتی ہے۔ایک واقعہ سنو انحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نوجوان کو والد کی شہادت پر مغموم کھڑے دیکھا تو فرمایا۔تمہیں ایک خوشی کی خبر سناؤں۔جب تمہارے والد شہید ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اُن سے سامنے آکر بات کی اور فرمایا جو مانگنا چاہتے ہو مانگو۔تمہارے باپ نے عرض کیا " اے میرے اللہ تیری کسی نعمت کی کمی نہیں ہے لیکن خواہش ہے کہ پھر دُنیا میں جاؤں اور تیرے دین کے راستے میں پھر جان دوں۔" خدا تعالیٰ نے فرمایا " ہم تمہاری اس خواہش کو بھی ضرور پورا کر دیتے لیکن ہم یہ عہد کر چکے ہیں کہ انهُمْ لَا يَرْجِعُونَ کوئی مردہ زندہ ہو کہ اس دنیا میں نہیں جاسکتا۔جابر کے والد نے کہا " تو پھر میرے بھائیوں کو میری حالت کی اطلاع دے دی جاوے تاکہ ان کا جہاد کا شوق ترقی کرے۔“ اس پر یہ آیت اتری کہ جو لوگ خدا کے رستے میں شہید ہوتے ہیں انہیں مردہ نہ سمجھا کرو بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے خدا کے پاس خوشی کی زندگی گزار رہے ہیں۔“ (تنه مندی و ابن ماجه بحوالہ زرقانی ) بچہ۔کفار مکہ تو خود کو فاتح سمجھ رہے ہوں گے۔ماں۔فاتح تو سمجھ رہے تھے لیکن آپس میں زبر دست بحث بھی ہو رہی تھی کوئی کہہ رہا تھا حملے کا کیا فائدہ ہوا جب مسلمان کمز در نظر آرہے تھے تو مدینہ