ہجرت سے وصال تک — Page 57
۵۷ کفار بہت دیر تک مقتولین اور زخمیوں میں آپ کو تلاش کرتے رہے جب مایوس ہو گئے تو ابو سفیان اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ درے کے پاس آیا اور اونچی آواز میں پوچھا یہ مسلمانو ! کیا تم میں محمد صلی اللہ علیہ وستم ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے چپ رہنے کا ارشاد فرمایا۔پھر ابوسفیان نے ابو بکر رض اور عمر رض کا پوچھا۔آپؐ نے پھر اشارے سے چپ رہنے کا ارشاد فرمایا۔کوئی جواب نہ پا کہ ابوسفیان نے نعرہ مارا۔اُعْلُ هُبل ، یعنی اے سہیل تیری بلندی ہو۔(سیل اُن کے بڑے ثبت کا نام تھا) اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ثبت کا نام سن کر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم بے چین ہو گئے اور فرمایا ان کو جواب کیوں نہیں دیتے اللہ اعلى واحل یعنی بلندی اور بزرگی صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔ابوسفیان نے کہا لَنَا الْعُوَى وَلا عُرى لكم ہمارے ساتھ عربی ہے اور تمہارے ساتھ کوئی مریمی نہیں (ایک اور ثبت کا نام ہے) آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہو۔الله مَوْلَنا وَلا مَولیٰ لکم۔اللہ ہمارا مدد گار ہے اور تمہارے ساتھ کوئی مدد گار نہیں۔جنگ اُحد ۲۳ ر ما مه چ ۲۵ مطابق شوال کو ہوئی۔بچہ۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اُحد میں کب تک تشریف فرما نہ ہے۔مدینہ والے تو بہت انتظار کر رہے ہوں گے۔مال۔وہاں ایسی ایسی خبریں گئی تھیں کہ صحیح حالات جاننے کے لئے شکر کی واپسی