ہجرت سے وصال تک

by Other Authors

Page 27 of 142

ہجرت سے وصال تک — Page 27

۲۷ تھا کہ شہر چھوڑتے تو اپنے بعد کسی کو امیر مقرر فرماتے چنانچہ مدینے میں عبدالله بن أم كلثوم اور حضرت ابولیا یہ بن منذر کو اور قباء میں حضرت عاصم بن عدی کو امیر مقرر فرمایا۔حضرت عثمان بن عفان ساتھ نہ جا سکے تھے کیونکہ ان کی بیگم حضرت رقیہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی تھیں بہت بیمار تھیں۔آپ اپنی فوج کے ساتھ مقام بدر سے تھوڑے فاصلے پر تھے کہ خبر رسانوں نے قریش کے ایک بہت بڑے شکر کی آمد کی اطلاع دی۔آپ نے صحابہ کرام کو مشورے کے لئے دوبارہ جمع کیا۔مہاجرین میں سے حضرت مقداد نے بڑے جوش سے کہا " یا رسول اللہ ہم موسی کے احباب کی طرح نہیں کہ آپ کو یہ جواب دیں کہ تو اور تیرا خدا جا کہ لڑو ہم نہیں بیٹھے ہیں بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ آپ جہاں بھی چاہتے ہیں چلیں ہم آپ کے ساتھ ہیں اور ہم آپ کے دائیں اور بائیں اور آگے اور پیچھے لڑیں گے۔آپ نے یہ تقریریشنی تو آپ کا چہرہ خوشی سے تمتما نے (بخاری کتاب المغازی) لگا۔بچہ۔انصار میں سے کسی نے کوئی مشورہ دیا ؟ ماں۔جی بچے انصار کی طرف سے حضرت سعد بن معاذ نے بڑے جذبے سے کہا یا رسول اللہ ! خدا کی قسم جب ہم آپ کو سچا سمجھ کہ آپ پر ایمان لائے ہیں اور ہم نے اپنا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں دے دیا ہے تو پھر آپ جہاں چاہیں چلیں ہم آپ کے ساتھ ہیں اور اُس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر آپ ہمیں سمندر ہیں کو دھجانے