ہجرت سے وصال تک — Page 108
مصر کے بادشاہ مقوقس کے نام خط حاطب بن ابی بلتعہ کے ہاتھ بھجوایا۔بشہ کے بادشاہ احمد نجاشی کے نام خط عمر بن امیہ ضمری کے ہاتھ بھجوایا۔غسان الشام کے بادشاہ حارث بن ابی شمیر کے نام خط شجاع بن وہب کے ہاتھ بھجوایا۔یمامہ کے رؤساء کے لئے خط سلیط بن عمرو فرشی کے ہاتھ بھجوایا بچہ۔اُن میں سے کوئی اسلام لایا ؟ ماں۔سنجاشی شاہ حبش نے جوابا لکھا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ خدا کے پیغمبر نہیں (طبری) اُس نے حضرت جعفر طیار کے ہاتھ پر بیعت کی اپنے بیٹے کو مدینہ بھیجا مگر اس کا جہاز راستے میں ڈوب گیا۔ہجرت حبشہ کرنے والوں میں حضرت ام حبیبہ بنت ابو سفیان بھی تھیں۔آنحضو صلی الله علی دلم نے حبشہ میں ان کے قیام کے دوران نکاح کا پیغام بھیجا وہیں نکاح ہوا یہ جمادی الاخر شہ ہجری کا واقعہ ہے۔شاہ مصر مقوقس نے بھی آپ کی تائید کی اور خدمت کے لئے دو معزز لڑکیاں، کچھ کپڑا اور سواری کے لئے پھر بھیجا۔دونوں خواتین اسلام لے آئیں۔اُن میں سے ایک حضرت ماریہ قبطیہ سے آپ نے شادی کر لی ان سے اللہ پاک نے آپ کو ایک بیٹا حضرت ابراہیم عطا کئے جو کم عمری میں فوت ہو گئے۔قیصر روم نے بھی دل سے تائید کی مگر درباریوں کے خوف سے اظہار کی جرات نہ کی۔