حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 59
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 59 قرآن کریم سیکھنے اور پھر آگے سکھانے والے کے لیے خوش خبری: جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حفاظ کو خوش خبریاں عطا فرمائی ہیں وہاں قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرنے والوں اور آگے سکھانے والوں کے لیے بھی خوش خبری دی ہے کہ ان کو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی راہنمائی میں خود جنت میں لے کر جائیں گے۔چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سرور کونین صلی اللہ علیہ سلم کا یہ ارشاد مبارک نقل کرتے ہیں: أَلا مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ وَعَمِلَ بِمَا فِيْهِ فَأَنَا لَهُ سَائِقٌ إِلَى الْجَنَّةِ وَدَلِيْلٌ إِلَى الْجَنَّةِ۔(کنز العمال جلد 1 صفحه 531، كتاب الاذكار من قسم الاقوال، باب السابع في تلاوة القرآن وفضائله، الفصل الاول في فضائل تلاوة القرآن ترجمہ: ایسے شخص کے لیے خوش خبری ہو کہ جس نے خود قرآن کریم سیکھا اور پھر دوسروں کو سکھایا اور جو کچھ قرآن کریم میں ہے اس پر عمل کیا۔میں اس کو خود جنت میں لے کر جاؤں گا اور جنت کی طرف لے جانے والا راہبر بنوں گا۔حافظ قرآن کے والد کا عظیم درجہ بخشش کا ذریعہ : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان والدین کے لیے بھی خوش خبریاں عطا فرمائی ہیں جنہوں نے اپنی اولا د کو قرآن کریم کی تعلیم دلانے ، اور اس کو حفظ کروانے کی سعادت پائی۔چنانچہ روایت ہے: " جس شخص نے اپنے بیٹے کو قرآن کریم ناظرہ کی تعلیم دلائی ، اس کے سب اگلے اور پچھلے گناہ معاف ہو گئے اور جس شخص نے قرآن کریم حفظ کروایا اس کو قیامت کے دن چودھویں رات کے چاند جیسی صورت پر اٹھایا جائے گا اور اس کے بیٹے سے کہا جائے گا کہ قرآن پڑھنا شروع کرو۔جب وہ پڑھے گا تو ہر آیت کے بدلے اللہ عز وجل اس کے باپ کا ایک درجہ بلند فرماتا رہے گا حتی کہ حافظ اس حصہ قرآن کے آخر تک پہنچ جائے جو اس کو یا دتھا۔“ (المعجم الاوسط الطبراني، جزء 2 ، صفحه (264)