حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 140 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 140

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات قوتِ حافظہ کے لیے بعض نسخہ جات : 140 در حقیقت قوت حافظہ ایک عطیہ ء خداوندی ہے۔اللہ تعالیٰ جس کو عطا فرمانا چاہتا ہے فرما دیتا ہے البتہ بعض اوقات مشق و مزاولت اور محنت و تکرار سے حافظہ کھل جاتا ہے۔بعض چیزیں ایسی ہیں جن۔ذہن اور حافظہ تقویت پاتا ہے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میٹھا انار کھایا کرو کیونکہ یہ معدہ کو درست کرتا ہے۔ایک شخص نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے نسیان یعنی بھول جانے کی بیماری کی شکایت کی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کندر کو استعمال کرو کیونکہ یہ دل کو مضبوط کرتا ہے اور نسیان کو دور کرتا ہے۔امام زہری فرماتے ہیں کہ شہد کھایا کرو یہ حافظہ کے لئے عمدہ چیز ہے۔نیز آپ نے فرمایا جس آدمی کو احادیث یاد کر نے کا شوق ہو تو چاہئے کہ کشمش کھائے۔حضرت عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں: ایک تولہ کندر اور ایک تولہ شکر لے کر دونوں کو اچھی طرح پیسو پھر ان کو نہار منہ کھاؤ۔یہ نسیان کے لیے اچھا علاج ہے۔علامہ جعابی فرماتے ہیں کہ میں حافظے میں بے کا رتھا۔حکما نے کہا دودھ کی چھاچھ کے ساتھ روٹی کھایا کرو۔چنانچہ میں نے چالیس دن صبح اور شام یہ کھایا اس کے علاوہ کچھ نہیں کھایا جس سے میرا ذہن صاف ہو گیا اور میرا حافظہ اتنا اچھا ہو گیا کہ میں ایک دن میں تین سو حدیثیں یاد کر لیتا تھا۔“ (فضائل حفظ قرآن مؤلفه امدادالله ،انور دار المعارف ،ملتان ، صفحه 289 290 ) | ذہن اور حافظہ کی تقویت کے لیے بادام اور سونف بھی بہت مفید ہے۔فِي الْقُرْآنِ كُلَّ الشَّقَاء ( عادات ) قرآن میں ہر قسم کی (روحانی نے سائی) مواد موجود ہے