حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 64
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 64 ،، پہلے ان صحابہ کو دفن کر و جو قرآن کریم کے حافظ اور قرآن کا زیادہ علم رکھتے ہیں۔“ (بخاری، کتاب فضائل القرآن ، باب خيركم من تعلم القرآن و علمه گو یا وفات کے بعد بھی حافظ قرآن کی عزت قائم رکھی گئی ہے۔قرآن کریم کی حافظ کے لیے سفارش،خدا کی رضا اور خوشنودی کا موجب: قرآن کریم حافظ قرآن کی شفاعت کرے گا اور حافظ قرآن کے حق میں قرآن کریم کی شفاعت قبول کی جائے گی اور حافظ قرآن کو اس کے اجر سے نوازا جائے گا۔عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّهُ قَالَ الْقُرْآنُ يَشْفَعُ لِصَاحِبِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَقُوْلُ يَا رَبِّ جَعَلْتَنِي فِي جَوْفِهِ فَأَسْهَرْتُ لَيْلَهُ وَمَنَعْتُهُ عَنْ كَثِيرٍ مِنْ شَهْوَاتِهِ وَلِكُلِّ عَامِلٍ مَنْ عَمِلَهُ عُمَالَةٌ فَيُقَالُ لَهُ ابْسُطْ يَدَكَ قَالَ فَتَمْلًا مِنْ رَضْوَانِ فَلَا يَسْخُطُ عَلَيْهِ بَعْدَهُ ثُمَّ يُقَال لَهُ اقْرَأْ وَارْقِهُ قَالَ فَيُرْفَعُ لَهُ بِكُلّ آيَةٍ دَرَجَةٍ وَيَزْدَادُ بِكُلِّ آيَةٍ حَسَنَةٍ (مصنف ابن أبي شيبة، كتاب فضائل القرآن باب من قال يشفع القرآن لصاحبه يوم القيامة) ترجمہ: حضرت مجاہد بیان کرتے ہیں کہ قیامت والے دن قرآن کریم اپنے حافظ کی شفاعت کرتے ہوئے کہے گا: اے میرے ربّ! تو نے مجھے اس کے سینے میں محفوظ کیا اور میں نے اس کو رات رات بھر جگایا اور اس کو بہت سی دنیوی لذتوں سے روکے رکھا۔ہر عامل کو اس کے عمل کا بدلہ ملتا ہے لہذا اس کو بھی اس کے عمل کا بدلہ عطا فرما۔اس پر حافظ قرآن سے کہا جائے گا کہ اپنا ہاتھ پھیلا ؤ، وہ پھیلائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنی رضا اور خوشنودی سے بھر دے گا اور پھر اس پر کبھی بھی ناراض نہ ہوگا۔اس کے بعد حافظ قرآن سے کہا جائے گا کہ قرآن کریم کی تلاوت کرتے جاؤ اور بلندی کی طرف چڑھتے جاؤ۔پس ہر آیت کے بدلے میں اس کو ایک درجہ کی بلندی نیز ہر آیت کے بدلے میں اس کی ایک نیکی بڑھا دی جائے گی۔