حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 194
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 194 عائشہ دینیات اکیڈمی کے تحت مدرسة الحفظ ( بچیوں کے لیے ): احمدی بچیوں کیلئے 17 مارچ 1993 کو ربوہ میں عائشہ دینیات اکیڈمی قائم کی گئی جس کے تحت مدرسة الحفظ جاری ہے۔اب تک یہاں سے سینکڑوں بچیاں قرآن کریم حفظ کر چکی ہیں۔مدرسة الحفظ ربوہ کا مختصر تعارف (بحواله روزنامه الفضل 3 دسمبر 2008ء صفحه 139) سیدنا حضرت مسیح موعود کی دلی تمنا کی تکمیل کے لیے حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ کی تحریک کے نتیجہ میں خلافت ثانیہ کے آغاز میں 1920ء سے قبل حافظ کل اس کی ابتداء ہو چکی تھی۔چنانچہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب (خلیفہ اسیح الثالث ) نے اسی کلاس سے 17 اپریل 1922ء کو تیرہ سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کیا۔آپ کے ساتھ بارہ طلباء اس حافظ کلاس میں شامل تھے۔اس وقت مکرم حافظ سلطان حامد صاحب ملتانی حافظ کلاس کے استاد تھے۔(بحوالہ قادیان گائیدہ صفحہ 91) ( جماعت احمدیہ میں مدرستہ الحفظ کا آغاز انتہائی بابرکت تھا جس کی پہلی کلاس میں وہ طالب علم بھی تھا جسے خدا تعالیٰ نے مسند خلافت پر متمکن فرمایا ) 1932ء میں مکرم حافظ سلطان حامد صاحب ملتانی کی وفات کے بعد مکرم حافظ کرم الہی صاحب آف گولیکی ضلع گجرات اس کلاس کے معلم مقرر ہوئے۔بعد ازاں 1935 ء سے حافظ کلاس مدرسہ احمدیہ کے زیر انتظام مکرم حافظ شفیق احمد صاحب کی نگرانی میں جاری رہی اور قیام پاکستان کے بعد احمد نگر اور بعد ازاں بیت مبارک ربوہ میں منتقل ہوگئی۔1969ء میں حافظ صاحب موصوف کی وفات کے بعد کچھ عرصہ مکرم حافظ محمد یوسف صاحب اس کلاس کو پڑھاتے رہے۔جون 1969ء میں یہ سعادت مکرم حافظ قاری محمد عاشق صاحب کے حصہ میں آئی۔محترم قاری صاحب کی سرکردگی میں اس درس گاہ نے ایک باقاعدہ ایک مدرسہ کی شکل اختیار کر لی۔یہ مدرسہ پہلے جامعہ احمدیہ کے کواٹرز کے ایک کمرے میں قائم رہا پھر جب طلباء کی تعداد بڑھنا شروع ہوئی