حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 168
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 168 رہا اور شب و روز نمازوں میں سنا دیا جاتا رہا تو اس کا انکار کس طرح کیا جا سکتا ہے۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر تو قرآن اترا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپر دساری دنیا کی اصلاح کا کام کیا گیا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے کیوں نہ یادر کھتے ؟۔۔۔اور لاکھوں انسان موجود ہیں جنہیں سارا قرآن یاد ہے۔جب اتنے لوگ اسے یاد کر سکتے ہیں تو کیا وہی نہیں کر سکتا تھا جس پر قرآن نازل ہوتا تھا؟ اللہ تعالیٰ نے اسے ایسے عشاق عطا کیے جو اس کے ایک ایک لفظ کو حفظ کرتے اور رات دن خود پڑھتے اور دوسروں کو سناتے تھے۔اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے کسی نہ کسی حصے کا نمازوں میں پڑھنا فرض مقرر کر دیا اور شرط لگادی کہ کتاب میں سے دیکھ کر نہیں بلکہ یاد سے پڑھا جائے۔اگر کوئی کہے کہ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بات سوج گئی تھی تو ہم کہتے ہیں کہ یہی بات زرتشت ، موسیٰ اور وید والوں کو کیوں نہ سوجھی۔معلوم ہوتا ہے کہ اس کا سوجھانے والا کوئی اور ہے۔۔۔یہ بھی یادر ہے کہ ایسے آدمیوں کا میسر آنا جو ا سے حفظ کرتے اور نمازوں میں پڑھتے تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طاقت میں نہ تھا۔ان کا مہیا کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار سے باہر تھا۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: انا نحن نزلنا الذکر وانا له لحافظون که ایسے لوگ ہم پیدا کرتے رہیں گے جو اسے حفظ کریں گے۔آج اس اعلان پر تیرہ سو سال ہو چکے ہیں اور قرآن مجید کے کروڑوں حافظ گزر چکے ہیں اور آج بھی بے شمار حافظ ملتے ہیں جنہیں اچھی طرح سے قرآن کریم یاد ہے۔بعض یورپین ناواقفیت کی وجہ سے کہہ دیا کرتے ہیں کہ اتنا بڑا قرآن کس کو یا در ہتا ہوگا ؟ مگر قادیان ہی میں کئی حافظ مل سکتے ہیں جنہیں اچھی طرح سے قرآن یاد ہے۔چنانچہ میرے بڑے لڑکے ناصر احمد سلمہ اللہ تعالیٰ نے بھی گیارہ سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کر لیا تھا۔“ (تفسیر کبیر، جلد چهارم، صفحه 17، 18، زیر تفسير سورة الحجرآيت (10)