حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 139
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 139 حفظ کرنے کے بعد دہرائی ضروری ہے: حفظ کو محفوظ رکھنے کا بہترین طریق یہ ہے کہ بار بار دہرایا جائے۔ایک حافظ قرآن کو یاد کرنے اور یادر رکھنے کے لیے بہت دہرانا پڑتا ہے۔پس حفظ کو محفوظ رکھنے کا طریق یہی ہے کہ حفظ کرنے کے بعد اس کی مسلسل دہرائی کی جائے تا کہ حفظ قائم رہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: تَعَاهَدُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ أَشَدُّ تَفَصَّياً مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهَا ( مسند احمد بن حنبل، مسند عبد الله بن مسعود، جزء اول صفحه 423 ) | ترجمہ: قرآن کریم کو بار بار دہراؤ کیونکہ یہ بندوں کے سینوں سے اس سے بھی جلدی نکل جاتا ہے جیسے جانور اپنی رہی ہے۔حفظ کی دہرائی کے حوالے سے واقعات: محدث امام ابو اسحاق شیرازی المتوفی 476ھ اپنے سبق کو سو دفعہ دہراتے تھے۔امام ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت حسن بن ابوبکر نیشا پوری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: آدمی اس وقت کسی چیز کا حافظ نہیں کہلا سکتا جب تک اس کو کم سے کم پچاس مرتبہ زبانی دُہرانہ لے۔امام ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک فقیہ نے اپنے گھر میں کئی دفعہ سبق کو دہرایا تو اس کے گھر میں موجود بڑھیا نے کہا: خدا کی قسم ! یہ سبق مجھے یاد ہو گیا تو انہوں نے فرمایا کہ مجھے سناؤ تو اس نے سنا دیا۔پھر کئی دن گزر گئے تو بڑھیا سے کہا کہ وہ سبق مجھے دوبارہ سناؤ تو اس نے کہا کہ مجھے یاد نہیں ہے۔فرمایا: میں نے اسی لئے بار بار یاد کیا تھا تا کہ میں تیری طرح بھول نہ جاؤں۔“ ( فضائل حفظ قرآن، مؤلفه امداد الله انور، دارالمعارف ملتان،صفحه 282)