حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 102 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 102

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 102 ترجمہ: اے طالب معرفت ! جان لے کہ جب کوئی شخص سورۃ فاتحہ اور قرآن کریم کی تلاوت کرنے لگے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھے جیسا کہ قرآن کریم میں حکم ہے۔کیونکہ کبھی شیطان خدا تعالیٰ کی رکھ میں چوروں کی طرح داخل ہو جاتا ہے اور اس حرم کے اندر آ جاتا ہے جو معصومین کی محافظ ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ سورۃ فاتحہ اور قرآن مجید کی تلاوت کے وقت اپنے بندوں کو شیطان کے حملہ سے بچائے ، اسے اپنے حربہ سے پسپا کرے، اس کے سر پر تنبر رکھے اور غافلوں کو غفلت سے نجات دے۔پس اس نے شیطان کو دھتکارنے کے لئے جو قیامت تک راندہ درگاہ ہے اپنے ہاں سے بندوں کو ایک بات سکھائی۔تلاوت قرآن کریم کے وقت خاموشی : قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوئے یہ ادب بھی سکھایا گیا ہے کہ جب تلاوت کی جارہی ہو تو خاموشی سے سنا کرو۔ارشاد خداوندی ہے: وَإِذَا قُرِءَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (الاعراف:205) ترجمہ: اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔قرآن کریم کی ان تعلیمات کے مطابق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو غور سے تلاوت سننے کی بھی بہت تاکید فرماتے تھے۔ایک روایت میں ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ لَهُ أَجْرٌ وَإِنَّ الَّذِي يَسْتَمِعُ لَهُ أَجْرَانِ۔(سنن الدارمی، کتاب فضائل القرآن باب فضل من استمع الى القرآن جو قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہے اس کے لیے ایک اجر ہے اور جو غور سے سنتا ہے اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔“