حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 85
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 85 حفاظ کرام چونکہ قرآن کریم یاد کرنے کے لیے کثرت سے تلاوت کرتے ہیں، اس لیے اس کے فضائل و برکات سے بہ درجہ اولیٰ حصہ پاتے ہیں۔ذیل میں چند احادیث درج کی جاتی ہیں جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کی اہمیت ، آداب اور فضائل کا ذکر فرمایا ہے۔حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أعْبُدُ النَّاسِ أَكْثَرُهُمْ تِلَاوَةٌ لِلْقُرْآنِ۔(کنز العمال، جلد اول، صفحه 257 ، كتاب الاذكار من قسم الاقوال، باب السابع في تلاوة القرآن وفضائله حدیث نمبر 2257 ) ترجمہ: لوگوں میں سے سب سے زیادہ عبادت گزار ہی کثرت سے قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے ہیں۔عَبْدِ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرٍ أَمْثَالِهَا لَا أَقُولُ الم حَرْفٌ وَلَكِنْ أَلِفٌ حَرْفٌ وَلَامٌ حَرْفٌ وَمِيمٌ حَرْفٌ (ترمذی، کتاب فضائل القرآن بَاب مَا جَاءَ فِيمَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنَ الْقُرْآنِ مَالَهُ مِنْ الأحْي - ترجمہ : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قرآن کریم کا ایک حرف بھی پڑھا اس کو ایک نیکی کا اجر ملے گا اور اس ایک نیکی کا بدلہ دس نیکیاں ہیں۔میں نہیں سمجھتا کہ السم ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حرف ہے ، لام ایک الگ حرف ہے، اور میم ایک الگ حرف ہے۔“ حضرت عبیدہ ملیکی سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ لَا تُوَسَدُوا الْقُرْآنَ وَاتْلُوْهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَ افْشُوْهُ وَ تَغَنَّوْهُ وَ تُدَبِّرُوْا مَا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ وَلَا تَعْجِلُوْا تِلَاوَتَهُ فَإِنَّ لَهُ ثَوَابًا۔(شعب الإيمان، التاسع عشر باب في تعظيم القرآن فصل في إدمان تلاوة القرآن جزء 2،صفحه 350)