حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 84
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 84 تلاوت قرآن کریم کے فضائل ا الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ أُولَئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَمَن يَكْفُرُ بِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ (البقرة : 122) ترجمہ: وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب دی وہ اس کی تلاوت ایسے کرتے ہیں جیسا کہ اس کی تلاوت کا حق ہے۔یہی وہ لوگ ہیں جو ( در حقیقت ) اس پر ایمان لاتے ہیں۔اور جو کوئی بھی اس کا انکار کرے پس وہی ہیں جو گھاٹا پانے والے ہیں۔لفظ ” قرآن کا مطلب ہے بار بار اور کثرت سے پڑھنا۔پس قرآن کریم بار بار اور کثرت سے پڑھی جانے والی کتاب ہے۔قرآن کریم کے لفظ میں یہ پیغام اور نصیحت کی گئی ہے کہ اس کتاب کو بار بار اور کثرت کے ساتھ پڑھو نیز یہ پیش گوئی بھی اس لفظ میں موجود ہے کہ یہی وہ کتاب ہے جس کو سب کتب سے زیادہ اور بار بار پڑھا جائے گا۔چونکہ اس وقت دنیا کے ہر خطہ میں مسلمان کثرت سے پائے جاتے ہیں اس لیے ہم بلا مبالغہ کہہ سکتے ہیں کہ قرآن کریم وہ واحد الہامی کتاب ہے جس پر سورج غروب نہیں ہوتا۔دنیا میں صرف یہی ایک الہامی کتاب ہے جو اپنی الہامی زبان میں نزول کے وقت سے لے کر اب تک لفظ بہ لفظ محفوظ ہے اور کثرت سے پڑھی جاتی ہے اور مسلمانوں کے ہر طبقہ میں اس کے جزوی یا مکمل طور پر قاری و حافظ اور تلاوت کرنے والے موجود ہیں۔قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت کرنا بھی اس کلام کی بڑی فضیلت اور امتیازی خاصیت کا ثبوت ہے کیونکہ یہ دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔یہ قرآن کریم کی حفاظت کا بھی ایک ذریعہ ہے۔حفاظت کے ضمن میں کثرت تلاوت بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔کثرت سے تلاوت کرنے والا قرآن کریم کے متن سے اس قدر مانوس ہو جاتا ہے کہ جب اس کے سامنے تلاوت کی جائے تو غلطی کی صورت میں فوراً درستی کروا سکتا ہے گو زبانی اسے قرآن کریم مکمل نہ بھی یاد ہو۔