حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 83
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 83 فَنَسْأَلُهُمْ مَا لِلنَّاسِ مَا لِلنَّاسِ مَا هَذَا الرَّجُلُ فَيَقُولُونَ يَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَهُ أَوْحَى إِلَيْهِ أَوْ أَوْحَى اللَّهُ بِكَذَا فَكُنْتُ أَحْفَظُ ذَلِكَ الْكَلَامَ وَكَأَنَّمَا يُقَرُّ فِي صَدْرِى وَكَانَتْ الْعَرَبُ تَلَوَّمُ بِإِسْلَامِهِمُ الْفَتْحَ فَيَقُولُونَ اتْرُكُوهُ وَقَوْمَهُ فَإِنَّهُ إِنْ ظَهَرَ عَلَيْهِمُ فَهُوَ نَبِيٌّ صَادِق فَلَمَّا كَانَتْ وَقْعَةُ أَهْلِ الْفَتْحِ بَادَرَ كُلُّ قَوْمٍ بِإِسْلَامِهِمْ وَبَدَرَ أَبِى قَوْمِي بِإِسْلَامِهِمُ فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ جِئْتُكُمُ وَاللَّهِ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا فَقَالَ صَلُّوا صَلَاةَ كَذَا فِي حِينٍ كَذَا وَصَلُّوا صَلَاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا فَإِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنُ أَحَدُكُمْ وَلْيَؤُمَكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا فَنَظَرُوا فَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَكْثَرَ قُرْآنًا مِنِّي لِمَا كُنْتُ أَتَلَقَّى مِنْ الرُّكْبَانِ فَقَدَّمُونِي بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَأَنَا ابْنُ سِتَّ أَوْ سَبْعِ سِنِينَ (بخاری، کتاب المغازی، باب 55 روایت نمبر 4302) | حضرت عمر و بن سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم مدینہ کے راستے میں رہتے تھے۔جو لوگ وہاں سے آتے ، ہم پوچھتے کہ لوگوں کا کیا حال ہے۔لوگوں کا کیا حال ہے۔اس شخص آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم) کا کیا بنا؟ اس پر وہ کہتے کہ ان کا دعویٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بھیجا ہے اور اللہ نے ان پر وحی ( قرآن ) نازل کی ہے اور یہ آیات نازل ہوئی ہیں۔چنانچہ میں وہ آیات یاد کر لیتا اور مجھے بہت سارا قرآن یاد ہو گیا۔اور عرب اپنے ( دین ) اسلام کو فتح کے ساتھ باندھتے اور کہتے کہ اسے اور اس کی قوم کو ان کے حال پر چھوڑ دو، اگر یہ دین غالب آ گیا تو یہ سچا نبی ہے۔جب مکہ فتح ہوا ، سب لوگ جلدی مسلمان ہو گئے اور میرے والد اپنی قوم کے ساتھ جلد مسلمان ہو گئے۔جب وہ یعنی میرے والد آئے انہوں نے کہا واللہ ! میں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے آیا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: فلاں نماز فلاں وقت اور فلاں نماز فلاں وقت میں پڑھو۔جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی اذان دے اور جسے زیادہ قرآن یاد ہو وہ امامت کرائے۔انہوں نے جائزہ لیا تو مجھ سے زیادہ کسی کو قرآن یاد نہ تھا کیونکہ میں قافلوں سے قرآن سیکھ لیتا تھا۔انہوں نے مجھے اپنا امام بنالیا۔میں (اس وقت صرف ) چھ یا سات سال کا تھا۔